صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 713 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 713

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۱۳ ۹۷- كتاب التوحيد کہ در حقیقت وہ بد آدمی ہے کہ جو ایسی شکل میں ظاہر ہوا، ایک غلطی ہے بلکہ چونکہ دیکھنے والے کی طبیعت اور خیال میں وہ درندوں کی طرح تھا۔ اس لئے خواب میں درندہ ہو کر اس کو دکھائی دیا۔ سو میر امطلب یہ ہے کہ خواب دیکھنے والا جذبات نفس سے خالی ہو اور ایک آرام یافتہ اور سراسر ز و بحق دل سے محض اظہار حق کی غرض سے استخارہ کرے۔ میں یہ عہد نہیں کر سکتا کہ ہر ایک شخص کو ہر یک حالت نیک یا بد میں ضرور خواب آجائے گی۔ لیکن آپ کی نسبت میں کہتا ہوں کہ اگر آپ چالیس روز تک رو بحق ہو کر بشرائط مندرجہ ”نشان آسمانی استخارہ کریں تو میں آپ کے لئے دعا کروں گا۔ کیا خوب ہو کہ یہ استخارہ میرے روبرو ہو۔ تا میری توجہ زیادہ ہو۔ آپ پر کچھ بھی مشکل نہیں۔ لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں۔ مگر اس جگہ نفلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر۔ کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی۔“ مکتوبات احمد ، جلد دوم، صفحہ ۱۹۱، ۱۹۲) بَاب ۱۱ : مُقَلِّبُ الْقُلُوبِ دلوں کا پھیرنے والا وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَنُقَلِبُ أَقْدَتَهُمْ وَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور ہم ان کے دلوں کو اور ابْصَارَهُمْ (الأنعام : ١١١)۔ ان کی آنکھوں کو پھیر دیں گے۔ ۷۳۹۱: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ۷۳۹۱: سعید بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ انہوں نے ابن مبارک سے، ابن مبارک نے عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ أَكْثَرُ مَا موسیٰ بن عقبہ سے ، موسیٰ نے سالم سے، سالم نے كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت عبد اللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: يَحْلِفُ لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثریوں قسم کھایا کرتے تھے: اس کی قسم ہے جو دلوں کا پھیرنے والا ہے۔ أطرافه : ٦٦١٧، ٦٦٢٨-