صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 712 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 712

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷ - كتاب التوحيد معترضین کو خاموش کرنے کے لئے علی گل مینی پر کے الفاظ استعمال کئے ہیں اور شمنی کے معنی چاہی ہوئی چیز کے ہوتے ہیں۔پس اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہر اس چیز پر قادر ہے جس کا وہ ارادہ کر لے۔ان الفاظ سے وہ اعتراض کلی طور پر باطل ہو جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ موت اور جھوٹ کا ارادہ نہیں کرتا کیونکہ یہ قدرت نہیں بلکہ ضعف کی علامت ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ ۲۰۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: و بعض لوگوں کا اعتقاد ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (الاحقاف:۳۴) اس واسطے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ جھوٹ بولے۔ایسا اعتقاد بے ادبی میں داخل ہے۔ہر ایک امر جو خدا تعالیٰ کے وعدہ اس کی ذات جلال اور صفات کے بر خلاف ہے وہ اس کی طرف منسوب کرنا بڑا گناہ ہے۔جو امر اس کی صفات کے بر خلاف ہے اُن کی طرف اس کی توجہ ہی نہیں۔“(ملفوظات، جلد ۴، صفحہ ۳۶۳) كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الإِسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا : رسول الله صلى الله عليه وسلم اپنے صحابہ کو تمام معاملات میں استخارہ کرنا سکھایا کرتے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: تیسرا سوال آپ کا استخارہ کے لئے ہے جو درحقیقت استخبارہ ہے۔پس آپ پر واضح ہو کہ جو مشکلات آپ نے تحریر فرمائی ہیں۔درحقیقت استخارہ میں ایسی مشکلات نہیں ہیں۔میری مراد میری تحریر میں صرف اس قدر ہے کہ استخارہ ایسی حالت میں ہو کہ جب جذبات محبت اور جذبات عداوت کسی تحریک کی وجہ سے جوش میں نہ ہوں۔مثلاً ایک شخص کسی شخص سے عداوت رکھتا ہے اور غصہ اور عداوت کے اشتعال میں سو گیا ہے۔تب وہ شخص جو اس کا دشمن ہے۔اس کو خواب میں کتے یا سور کی شکل میں نظر آیا ہے یا کسی اور درندہ کی شکل میں دکھائی دیا ہے۔تو وہ خیال کرتا ہے کہ شائد در حقیقت یہ شخص عند اللہ کتا یا سورہی ہے۔لیکن یہ خیال اس کا غلط ہے۔کیونکہ جوش عداوت میں جب دشمن خواب میں نظر آوے تو اکثر درندوں کی شکل میں یا سانپ کی شکل میں نظر آتا ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا