صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 711 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 711

صحیح البخاری جلد ۱۹ ۹۷- كتاب التوحيد تشریح : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى قُلْ هُوَ الْقَادِرُ اللَّه تعلی کا یہ فرمانا تو (ان سے) کہہ دے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قَدَدَ عَلَيْهِ (يَقْدِرُ) قَدْرًا وَقُدْرَةً کے معنے ہیں قومی عَلَيْهِ کسی چیز کے کرنے پر طاقت پائی اور الْفُرْدَةُ کے معنے ہیں: الْقُوَّةُ عَلَى الشَّى والتَّمَكُنُ مِنْهُ کسی چیز کے کرنے پر طاقت حاصل کرنا یا کسی پر قابو پا لینا قدرت کہلاتا ہے (اقرب) مفردات میں ہے کہ جب قندہ کا لفظ انسان کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ اس کو کسی چیز کے کرنے کی طاقت حاصل ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو اس سے مراد ہر قسم کی کمزوری و عاجزی کی نفی ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لئے قدرت مطلقہ کا لفظ استعمال نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو پوری قدرت حاصل نہیں۔صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ایسی ذات ہے جسے پوری پوری قدرت ہر بات پر حاصل ہے۔قدیر کے معنی کے ماتحت لکھا ہے هُوَ الْفَاعِلُ لِمَا يَشَاءُ عَلَى قَدْرٍ مَا تَقَدِى الْحِكَمَةُ لَا زَائِدٌ عَلَيْهِ وَلَا نَاقِصَّا عَنهُ۔اتنے اپنی چاہی ہوئی بات کو اندازے پر جس کا حکمت تقاضا کرتی ہے بغیر کمی یا بیشی کے کرنے والا قدیر کہلاتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ ۱۹۹) نیز فرمایا: بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ مرنے پر بھی قادر ہے یا کیا خدا تعالیٰ جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے۔یہ اعتراض بالکل بے سوچے سمجھے کیا گیا ہے کیونکہ قدیر کا لفظ تو قدرت اور طاقت کے کمال پر دلالت کرتا ہے۔پھر کیا مرنا اور جھوٹ بولنا قدرت اور طاقت کی علامتیں ہیں کہ اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا جائے کہ خدا تعالیٰ مرنے پر اور جھوٹ بولنے پر بھی قادر ہے۔یہ تو ایسا ہی اعتراض ہے جیسے کوئی کہے کہ فلاں شخص بڑا بہادر ہے تو دوسرا اعتراض کرہے کہ کیا وہ ایسا بہادر ہے کہ چور سے ڈر کر بھاگ بھی سکتا ہے۔ایسے معترض کو کونسا شخص عقلمندوں میں شمار کرے گا۔دوسرے یہ بھی یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے