صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 707
صحیح البخاری جلد ۱۶ 2۔2 ۹۷ - كتاب التوحيد فِي نَفْسِي لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ہے۔پھر آپ میرے پاس آئے اور میں اپنے فَقَالَ لِي يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قُلْ لَا دل میں کہہ رہا تھا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ تو حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا كَنْرٌ مِّنْ آپ نے مجھ سے فرمایا: عبد اللہ بن قیس !لا حَوْلَ كُنُوزِ الْجَنَّةِ أَوْ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ ولا قوة إلا باللہ کہتے رہو کیونکہ وہ جنت کے به خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے یا فرمایا: کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کا پتہ نہ دوں۔أطرافه : ۲۹۹۲ ، ٤۲۰۰، ٦٣٨٤، ٦٤٠٩ ، ٦٦١٠ - ۷۳۸۷، ۷۳۸۸: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ ۷۳۸۷-۷۳۸۸: يحي بن سلیمان نے ہم سے سُلَيْمَانَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي بیان کیا کہ ابن وہب نے مجھے بتایا کہ عمرو (بن عَمْرُو عَنْ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ سَمِعَ حارش) نے مجھے خبر دی۔انہوں نے یزید سے، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا بَكْرِ الصِّدِّيقَ یزید نے ابوالخیر سے روایت کی۔انہوں نے اللهُ عَنْهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله حضرت عبد اللہ بن عمرو سے سنا کہ حضرت ابو بکر رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَّمْنِي دُعَاء صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي قَالَ قُلِ اللَّهُمَّ كا: یا رسول اللہ مجھے ایسی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں کیا کروں۔آپ نے فرمایا: یہ دعا کیا کرو۔إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا اے اللہ ! میں نے اپنی جان پر بہت ہی ظلم کیا اور يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مِنْ کوئی گناہوں کو نہیں بخشا مگر تو ہی۔پس تو میرے عِنْدِكَ مَغْفِرَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔أطرافه: ٨٣٤، ٦٣٢٦- گناہوں پر اپنی طرف سے پردہ پوشی فرماتے ہوئے مجھ سے در گزر فرما۔تو ہی غفور رحیم ہے۔۷۳۸۹: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۷۳۸۹: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ (عبد اللہ بن وہب نے ہمیں بتایا۔یونس نے مجھے ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ خبر دی۔انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهُ قَالَ النَّبِيُّ کہ عروہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رَضِيَ