صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 708
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۰۸ ۹۷- كتاب التوحيد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيلَ نے اُن سے بیان کی۔انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَادَانِي قَالَ إِنَّ اللهَ قَدْ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے پکارا، سَمِعَ قَوْلَ قَوْمِكَ وَمَا رَدُّوا عَلَيْكَ کہا: اللہ تمہاری قوم کی بات سن چکا ہے اور نیز وہ جواب بھی جو انہوں نے تمہیں دیا ہے۔طرفه: ۳۲۳۱۔ريح : قُلِ اللَّهُمَّ إِلى ظَلَمْتُ نَفْسی: اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ہی ظلم کیا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خد اتعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خداوہ خدا ہے جو بیقراروں کی دعا سنتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے آھن يُجِيبُ الْمُضْطَرَ اِذَا دَعَاهُ پھر جب کہ خدا تعالیٰ نے دعا کی قبولیت کو اپنی ہستی کی علامت ٹھہرائی ہے تو پھر کس طرح کوئی عقل اور حیا والا گمان کر سکتا ہے کہ دعا کرنے پر کوئی آثار صریحہ اجابت کے مترتب نہیں ہوتے اور محض ایک رسمی امر ہے جس میں کچھ بھی روحانیت نہیں۔میرے خیال میں ہے کہ ایسی بے ادبی کوئی سچے ایمان والا ہر گز نہیں کرے گا جبکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ جس طرح زمین و آسمان کی صفت پر غور کرنے سے سچا خدا پہچانا جاتا ہے اسی طرح دعا کی قبولیت کو دیکھنے سے خدا تعالیٰ پر یقین آتا ہے۔“ (ایام الصلح، روحانی خزائن جلد ۱۴، صفحه ۲۶۰،۲۵۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خد اتعالیٰ جس طرح پہلے دیکھتا تھا اب بھی دیکھتا ہے اسی طرح جس طرح پہلے کلام کرتا تھا اب بھی صفت تکلم اس میں موجود ہے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اب خدا تعالیٰ کلام نہیں کرتا۔کیا خیال کیا جا سکتا ہے کہ پہلے تو خد اسنا تھا مگر اب نہیں سنتا۔پس اللہ تعالیٰ کی تمام صفات جو پہلے موجود تھیں۔اب بھی اس میں پائی جاتی ہیں۔خدا تعالیٰ میں تغیر نہیں۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۵۴۲) حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ بیان کرتے ہیں: ظلم کے معنے ہیں کمی کرنا، حد اعتدال سے نکلنا۔اپنی جان پر ظلم کرنے کے یہ معنی ہیں کہ جو مواقع انسان کو دنیاوی اور دینی ترقیات حاصل کرنے کے میسر ہیں ان