صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 706 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 706

صحیح البخاری جلد ۱۶ 2+4 ۹۷ - كتاب التوحيد کرتے ہیں کیونکہ زمین اسی صورت میں کام کے قابل ہو سکتی ہے جب اس پر آسمان ہو۔اسی طرح کوئی عقل انسانی راہنمائی کے لئے کافی نہیں جب تک آسمان سے الہام کا پانی نازل نہ ہو۔اگر وہ آسمان روحانی سے قطع تعلق کر لیں گے تو ایک مردہ زمین کی طرح ہر قسم کے منافع سے محروم ہو جائیں گے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ العنکبوت آیت ۴۵، جلد۷ صفحه ۶۳۶، ۶۳۷) بَاب :٩ قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَكَانَ اللهُ سَمِيعًا بَصِيرًا (النساء: ١٣٥) اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور اللہ بہت سنے والا (اور) دیکھنے والا ہے قَالَ الْأَعْمَسُ عَنْ تَمِيمٍ عَنْ عُرْوَةَ اور اعمش نے کہا: انہوں نے تمیم سے تمیم نے عروہ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ فَأَنْزَلَ اللهُ انہوں نے کہا: سب خوبیاں اس اللہ کے لئے ہیں جو ساری آوازوں کو سنتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے تَعَالَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل کی: اللہ نے قَد سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي اس عورت کی دعا سن لی، جو اپنے خاوند کے متعلق زَوْجِهَا (المجادلة: ٢)۔تجھ سے بحث کرتی تھی۔٧٣٨٦: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ ۷۳۸۶: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔حماد نے ایوب سے، أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ كُنَّا ایوب نے ابو عثمان سے، ابو عثمان نے حضرت مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابو موسی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے تو ہم سَفَرٍ فَكُنَّا إِذَا عَلَوْنَا كَبَّرْنَا فَقَالَ جب بلندی پر چڑھتے اللہ اکبر کہتے۔آپ نے ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَإِنَّكُمْ لَا فرمایا: اپنے تئیں سنبھالے رکھو تم کسی بہرے کو تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا تَدْعُونَ سَمِيعًا نہیں بلا ر ہے اور نہ کسی غائب کو تم اس کو بلاتے ہو بَصِيرًا قَرِيبًا ثُمَّ أَتَى عَلَيَّ وَأَنَا أَقُولُ جو بہت ہی سننے والا، دیکھنے والا اور بہت ہی قریب