صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 705 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 705

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۷۰۵ ۹۷ - كتاب التوحيد نہیں کر سکتا۔یا اگر وہ سورج اور چاند اور ستاروں کے افعال میں کوئی تغیر پیدا کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا۔وہ اگر تیز مرچ استعمال کرے گا تو خدائے عزیز کا قانون اسے پیچش کی صورت میں اُس کے اِس جرم کی ضرور سزا دے گا اور اگر وہ اسے دور کرنا چاہے گا تو پھر بھی اُسے خدا تعالیٰ کے ایک دوسرے قانون کی طرف جانا پڑے گا یعنی ایسی اشیاء استعمال کرنی پڑیں گی جو اُن مرچوں کے اثر کو باطل کر دیں۔بہر حال خدا تعالیٰ کا قانون اس پر غالب ہے اور پھر آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے خدا تعالیٰ کا حکیم ہونا بھی ظاہر ہے کیونکہ دنیا کے تمام علوم کی بنیادیں اشیاء کے غیر متبدل خواص اور قدرت کے اٹل قوانین پر ہیں۔اگر آگ کبھی جلاتی اور کبھی نہ جلاتی یا پانی کبھی پیاس بجھاتا اور کبھی آگ لگا دیتا تو سائنس کبھی ترقی نہ کر سکتی۔پس جہاں انبیاء کے مخالفین کی تباہی خدا تعالیٰ کے غالب اور حکیم ہونے کا ثبوت ہے۔وہاں زمین و آسمان کا اٹل قوانین پر مبنی ہونا بھی بتارہا ہے کہ خدا تعالیٰ ہی سب پر غالب ہے۔پھر زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر کر کے اللہ تعالٰی نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اتنے بڑے کارخانہ پر غور کر کے تم سمجھ سکتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔اگر یہ تمام نظام صرف اس لیے ہو تا کہ انسان اس پر چند دن زندگی گزارے اور پھر ہمیشہ کے لئے فنا ہو جائے تو یقینا یہ تمام کام عبث ٹھہرتا۔پس آسمان اور زمین کی پیدائش خود اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان ایک بہت بڑے مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور موت صرف جسم اور روح کے جدا ہو جانے کا نام ہے ورنہ زندگی غیر محدود ہے۔اور ہر انسان اپنے اعمال کے مطابق آئندہ ترقی یا تنزل کے راستہ پر چلنے والا ہے۔اسی طرح زمین و آسمان کی پیدائش کا ذکر کر کے دشمنانِ انبیاء کو اس طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ جس طرح زمین آسمانوں کے بغیر اپنی طاقت اور قابلیت کا اظہار نہیں کر سکتی اسی طرح جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں آسمانی ہدایت کی ضرورت نہیں، صرف اپنی عقل اور دماغ سے کام لے کر وہ ترقی کر سکتے ہیں وہ بھی اپنی تباہی کا اپنے ہاتھوں سامان