صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 704 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 704

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۷۰۴ ۹۷ - كتاب التوحيد بِهَذَا وَقَالَ أَنْتَ الْحَقُّ وَقَوْلُكَ الْحَقُّ ہم سے ہی بیان کیا اور یہ بھی کہا تو حق ہے اور تیری بات بھی حق ہے۔أطرافه: ۱۱۲۰، 63۱۷، ٧٤٤٢، ٧٤٩٩۔تشریح : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ بِالحق اللہ تعلی کا فرمانا: اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق ( و حکمت) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے خالق ہونے کا ذکر قرآنِ کریم میں بے شمار جگہ پر کیا ہے۔اور مختلف پیرایوں میں ہمیں سمجھایا ہے کہ میں خالق ہوں۔تمہیں پیدا کرنے والا ہوں۔اس کے باوجو د تم میرے صحیح عبد نہیں بنتے۔ازہری کے نزدیک الخالق اور الخلاق اللہ تعالیٰ کی صفاتِ حسنہ میں سے ہیں اور الف اور لام کے ساتھ یعنی آن کے ساتھ یہ صفت اللہ کے سوا کسی غیر کے لئے استعمال نہیں ہوتی اور اس سے مراد وہ ذات ہے جو تمام اشیاء کو نیست سے پیدا کرتی ہے اور لفظ خلق کا بنیادی معنی اندازہ لگانا ہے۔پس اللہ تعالیٰ چیزوں کے وجود کا اندازہ کرنے کے اعتبار سے اور پھر اس اندازے کے مطابق انہیں وجود بخشنے کے اعتبار سے خالق کہلاتا ہے۔66 خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۷ رمئی ۲۰۱۰ء، جلد ۸ صفحه ۲۱۵،۲۱۴) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے عزیز اور حکیم ہونے کے ثبوت میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق کو پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اگر بڑی بڑی طاقتور قوموں اور حکومتوں کی تباہی دیکھ کر بھی تمہیں خدا تعالیٰ کے عزیز اور حکیم ہونے کا ثبوت نظر نہیں آتا تو تم آسمانوں اور زمین کی پیدائش پر غور کرو تمہیں معلوم ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو ایک نہایت پختہ اور اٹل قانون کے ماتحت بنایا ہے۔یعنی ان میں ایسے قوانین جاری کئے ہیں جن کو کوئی شخص بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ایک دہر یہ اپنی زبان سے خدا تعالیٰ کا انکار تو کر سکتا ہے لیکن وہ خدائے عزیز کے قانون کو بدل کر کانوں سے بولنے اور زبان سے سنے کا کام نہیں لے سکتا۔اسی طرح اگر وہ چاہے کہ آگ انسانی جسم کو نہ جلائے یا ٹھنڈا پانی اس کے جسم کو ٹھنڈا نہ کرے تو وہ ایسا