صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 697 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 697

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۲۹۷ ۹۷ - كتاب التوحيد ط تھی انہیں قدموں پر پھر یہ عالم عدم کی طرف لوٹایا جائے گا یہ وعدہ ہمارے ذمہ ہے جس کو ہم کرنے والے ہیں۔بخاری نے بھی اس جگہ ایک حدیث لکھی ہے جس میں جائے غور یہ لفظ ہیں: وَتَكُونُ السَّمَوَاتُ بِیمِینِو یعنی لیٹنے کے یہ معنی ہیں کہ خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں چھپالے گا اور جیسا کہ اب اسباب ظاہر اور مسبب پوشیدہ ہے اس وقت مسبب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چھپ جائیں گے اور ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلیات قہر یہ میں مخفی ہو جائے گی۔اور ہر یک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دے گی اور تجلیات الہیہ اس کی جگہ لیں گی اور علل ناقصہ کے فنا اور انعدام کے بعد علت تامہ کاملہ کا چہرہ نمودار ہو جائے گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے۔كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلْلِ وَالْإِكْرَامِ (الرحمن: ۲۷، ۲۸) لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّادِه (المؤمن: ۱۷) یعنی خدا تعالٰی اپنی قہری تجلی سے ہر یک چیز کو معدوم کر کے اپنی وحدانیت اور یگانت دکھلائے گا اور خدا تعالیٰ کے وعدوں سے مراد یہ بات نہیں کہ اتفاقاً کوئی بات منہ سے نکل گئی اور پھر ہر حال گلے پڑا ڈھول بجانا پڑا کیونکہ اس قسم کے وعدے خدائے حکیم وعلیم کی شان کے لائق نہیں یہ صرف انسان ضعیف البنیان کا خاصہ ہے جس کا کوئی وعدہ تکلف اور ضعف یا مجبوری اور لاچاری کے موانع سے ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔اور با ایں ہمہ تقریبات اتفاقیہ پر مبنی ہوتا ہے نہ علم اور یقین اور حکمت قدیمہ پر۔مگر خدا تعالیٰ کے وعدے اس کی صفات قدیمہ کے تقاضا کے موافق صادر ہوتے ہیں اور اس کے مواعید اس کی غیر متناہی حکمت کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔“ رووو آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ حاشیه صفحه ۱۵۰ تا ۱۵۵) ا (صحيح البخاری، کتاب التوحید، باب قول الله تعالى لِمَا خَلَقْتُ بیدی، روایت نمبر ۷۴۱۲) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ہر چیز جو اس پر ہے فانی ہے۔مگر تیرے رب کا جاہ و حشم باقی رہے گا جو صاحب جلال و اکرام ہے۔“ کے ترجمہ حضرت خلیفة المسیح الرابع : " آج کے دن بادشاہت کس کی ہے ؟ اللہ ہی کی ہے جو اکیلا (اور ) صاحب جبروت ہے۔"