صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 696
صحیح البخاری جلد ۱۶ ٦٩٦ ۹۷- كتاب التوحيد وَقَالَ شُعَيْبٌ وَالزُّبَيْدِيُّ وَابْنُ مُسَافِرِ سمیٹ لے گا اور آسمان کو لپیٹ دے گا۔ پھر وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔ زمین کے بادشاہ أَبِي سَلَمَةَ مِثْلَهُ۔ أطرافه : ٤٨١٢، 6519، ٧٤١٣۔ کہاں ہیں ؟ اور شعیب اور زبیدی اور ابن مسافر اور اسحاق بن یحی نے بھی زہری سے ، زہری نے ابو سلمہ سے یہی نقل کیا۔ تشریح قول الله : اللهِ تَعَالَى مَلِكِ النَّاسِ : اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: (وہ رب) جو تمام انسانوں کا بادشاہ (بھی) ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پاسکتا کیوں کہ قبضہ تامہ ہو اور تصرف تمام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے لئے مسلم نہیں۔“ من الرحمن، روحانی خزائن جلد ۹ حاشیه صفحه ۱۵۳،۱۵۲) وَيَطوى السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ : ( الله ) آسمان کو اپنی قدرت کاملہ سے لپیٹ دے گا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن کریم کے ہر ایک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی غلطی ہے۔ اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔۔۔۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے : وَالسَّمَوتُ مَطوِيتُ بِيَينه (الزمر: ۶۸) یعنی دنیا کے فنا کرنے کے وقت خدا تعالیٰ آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ سے لپیٹ لے گا۔ پھر ایک دوسری آیت یہ ہے : يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاء كَطَى السَّجل المكتب كَمَا بَدَانَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَعِلِينَ (الانبياء : ۱۰۵) یعنی ہم اس دن آسمانوں کو ایسا لپیٹ لیں گے جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے۔ اور جس طرز سے ہم نے اس عالم کو وجود کی طرف حرکت دی