صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 695
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۹۵ ۹۷ - كتاب التوحيد (ئیس: ۵۹) ” سلام“ کہا جائے گارت رحیم کی طرف سے۔وَسَلَهُ عَلَى الْمُرْسَلِينَ (الصافات: ۱۸۲) اور سلام ہو سب مُرسلین پر۔وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلامُ علَيْكُمْ (الزمر: ۷۴) تب اس کے داروغے ان سے کہیں گے تم پر سلامتی ہو۔تَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلمُ (ابراهیم :(۲۴) ان کا تحفہ ان (جنتوں) میں سلام ہو گا۔قِيلَ لِنُوحُ اهْبِطُ بِسَلَم مِنَّا (هود: ۴۹) (تب) کہا گیا اے نوح! تو ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اُتر۔اس کے بعد یہ دعا ہے: اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِينَ: یعنی ہم پر بھی سلامتی ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔یہ حصہ دعا بھی قرآن مجید سے ماخوذ ہے وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَمُ عَلَيْكُمُ (الزمر: ۷۴) اور اس کے دار و نے ان سے کہیں گے تم پر سلامتی ہو۔سلامتی اور رحمت کی دعا تمام لوگوں کے لئے بھی کی جاتی ہے جب دائیں بائیں سلام پھیر اجاتا ہے۔“ ( صحیح البخاری، ترجمه و شرح، کتاب الآذان، جلد ۲ صفحه ۲۳۰ تا ۲۳۲) بَاب ٦ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى مَلِكِ النَّاسِ ( الناس: ٣) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: (وہ ربّ ) جو تمام انسانوں کا بادشاہ (بھی) ہے فِيهِ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله اس کے متعلق حضرت ابن عمرؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۷۳۸۲: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ۷۳۸۲: احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابن وہب نے ہمیں بتایا کہ یونس نے مجھے خبر دی۔ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ انہوں نے ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے سعید عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ سے جو مسیب کے بیٹے ہیں، سعید نے حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ ابوہریرۃ سے، حضرت ابو ہریرۃ نے نبی صلی اللہ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: اللہ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ قیامت کے روز اپنی قدرت کا ملہ سے زمین کو