صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 694
صحیح البخاری جلد ۱۶ وو ۶۹۴ ۹۷ - كتاب التوحيد ہیں۔اس اقرار کے بعد ایک سچا عابد اپنے لئے کسی لقب کا بھی متمنی نہیں ہوتا اور اسی مفہوم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام الہاما مخاطب کئے گئے ہیں: قُل هذا فَضْلُ رَبِّي وَإِنِّي أَجَرَّدُ نَفْسِي مِنْ ضُرُوبِ الخطاب ( آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۳۷۳ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۷۳) ” یعنی کہہ دو کہ یہ میرے رب کا فضل ہے اور میں اپنے نفس کو ہر قسم کے القاب سے الگ رکھتا ہوں“ مگر آج علماء کا نفس راضی نہیں ہوتا جب تک مولانا وغیرہ کے القاب سے مخاطب نہ کئے جائیں۔التَّحِيَّاتُ یلہ کے بعد یہ الفاظ ہیں: وَالصَّلَوَاتُ یعنی تمام قسم کی نمازیں بھی اللہ ہی کے لئے ہیں۔الصلوۃ سے مراد وہ عبادت ہے جس کا تعلق بدن کے تمام اعضاء اور ان کی اطاعت کے ساتھ ہے۔والطيبات یعنی تمام مالی عباد تیں جو طیب یعنی ہر قسم کے مشرکانہ خیالات اور حرام اور ناجائز کمائی سے پاک اور خالص کسب حلال کا نتیجہ ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں۔ال( الف لام) استغراق کا ہے جس کی وجہ سے اردو ترجمہ میں تمام کا لفظ اختیار کیا گیا ہے۔یہ تشہد یعنی اقرار عبودیت مسلمان کی تمام عبادتوں کا خلاصہ ہے۔جو وہ بیٹھ کر اطمینانِ قلب اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور بار بار کرتا ہے اور یہ عطر ہے اس عبودیت کا جس کا عہد وہ الفاظ ايَّاكَ نَعْبُدُ سے کھڑے ہو کر کرتا ہے۔اسی عبودیت کے نتیجے میں عابد کو تین چیزوں کے وارث ہونے کا وعدہ دیا گیا ہے۔اول : سلامتی یعنی ہر بلاء وشر سے محفوظ رہنا۔دوم: رحمت الہی جو مختلف قسم کی نعمتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔سوم: برکت یعنی غیر معمولی ترقی۔اس وعدے کے پیش نظر ایک عابد مسلمان کے منہ سے یہ دعا بھی بحالت تشہد کرائی جاتی ہے: السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه یعنی اے نبی ! تجھ پر سلامتی اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو اور اس کی برکتیں ہوں۔سب سے پہلے اس جامع دعا کے مستحق سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔جنہوں نے مذکورہ بالا تینوں قسم کی عبادتوں میں اعلیٰ درجہ کا اسوہ حسنہ پیش کیا۔یہ جملہ علاوہ دعا کے ایک پیشگوئی بھی ہے جو قرآن مجید کی آیات سے اخذ کی گئی ہے۔دیکھئے: سَلَمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِيمٍ