صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 693
صحیح البخاری جلد ۱۹ ۶۹۳ ۹۷ - كتاب التوحيد ایک صفاتی نام المومن ہے۔پس اس نام سے فیض بھی وہی پائے گا جو اللہ تعالیٰ کے حکم صبغة الله کہ اللہ کے رنگ میں رنگین ہو، پر عمل کرنے کی کوشش کرے گا۔اِس سے دُور ہو کر ہر امن کی کوشش رائیگاں جائے گی۔ہر کوشش کا آخری نتیجہ ذاتی مفادات کے حصول کی کوشش ہو گا نہ کہ امن۔اور یہ امن اسی کو مل سکتا ہے جن کا ایمان کامل ہو۔“ (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۱۰۶ جولائی ۲۰۰۷ ، جلد ۵ صفحه ۲۷۹) قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ: تم یوں کہا کرو: تمام زبانی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: بعض لوگ اپنی مذکورہ بالا دعا میں اللہ تعالیٰ کو بھی شامل کر لیتے تھے اور یہ کہتے : السّلامُ على الله مِنْ عِبَادِهِ یعنی اللہ تعالیٰ پر اس کے بندوں کی طرف سے سلامتی ہو۔اس سے مشرک اقوام کے نقطہ نظر کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے خداؤں کو بھی اپنی سلامتی کا محتاج سمجھتی تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر صحابہ کو اس سے روک دیا اور فرمایا: اللہ تعالیٰ تو خود سراسر سلامتی ہے۔وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کا محتاج نہیں۔چنانچہ صحابہ کرام نے پھر کبھی یہ دعا نہیں کی۔شارع اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے الفاظ دعا اور اس کا طریق اپنے متبعین کو اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور روح القدس کی خاص تجلی سے خود سکھایا ہے تاوہ کوئی غلط راہ اختیار نہ کر لیں۔چنانچہ مذکورہ بالا دعا التحیات بھی ایک نمونہ ہے، آپ کی دعاؤں کا۔التَّحِيَّاتُ جمع ہے التَّحِيَّةُ کی تحيَّةٌ وہ کلمات تعظیم ہیں جن کے ساتھ بادشاہوں کو مخاطب کیا جاتا تھا اور اس تحیۃ میں نہ صرف حمد و ثناء کے القاب و خطابات ہی ہوتے تھے، بلکہ بادشاہوں کی سلامتی اور وقار کی دعائیں بھی شامل ہوتی تھیں۔جس کی وجہ سے تحیۃ کا لفظ جو کہ حیات سے مشتق ہے اختیار کیا گیا ہے۔التَّحِيَّاتُ یلہ کے یہ معنی ہیں کہ تمام کے تمام وہ القاب تعظیم اور کلمات ثناء و حمد اور دعائیں جن کے ساتھ دنیا کے بادشاہ و معبود مخاطب کئے جاتے ہیں، صرف اللہ ہی ان کا حق دار ہے۔یعنی وہ عبادتیں جن کا تعلق زبان سے ہے۔اللہ تعالیٰ کے لئے ہی مخصوص