صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 692
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۹۲ ۹۷ - كتاب التوحيد السلام کا ایک مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ جنت میں مومنوں پر سلامتی کا تحفہ عطا کرتا ہے۔جیسا کہ فرمایا سَلَام قَوْلًا مِّنْ رَّبِّ رَّحِیم یعنی ان کو سلام کہا جائے گا جو بار بار کرم کرنے والے رب کی طرف سے ان کے لئے پیغام ہو گا۔تو اس لفظ سلام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مکمل حفاظت کا پیغام اور وعدہ دے دیا ہے۔اُس خدا کی طرف سے جو رحم کرنے والا خدا ہے اور بار بار رحم کرنے والا خدا ہے۔یہ ایک چھوٹی سی آیت ہے لیکن ایک عظیم پیغام اپنے اندر رکھتی ہے کہ اس سلامتی کے تحفے کو حاصل کرنے کے لئے، اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا مورد بننے کے لئے اور اگلے جہان میں بھی اس سے فیض پانے کے لئے تم بھی اپنے اندر ، آپس میں، یہ روح پیدا کرو۔آپس کے تعلقات میں یہ روح پیدا کرو۔ایک دوسرے کو سلامتی بھیجو تو یہ تحفہ تمہیں ملتا رہے گا۔پھر اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ آپس کی سلامتی کے تحفے سے جہاں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے جنت میں جگہ پاؤ گے وہاں اس دنیا میں بھی سلامتی کی وجہ سے اپنے روح و دماغ کو بھی امن میں رکھو گے اور تمہارے لئے ، اپنی ذات کے لئے بھی اور اپنے ماحول کے لئے بھی مکمل خوشی پہنچانے والی چیز ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے حصول کا بھی یہ ایک عظیم راستہ ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک سلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں رکھا ہے اس لئے تم آپس میں سلام کو پھیلاؤ۔الادب المفرد لامام بخاری "باب السلام من اسماء الله عز وجل حدیث نمبر ۱۰۱۹) خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ا ار مئی ۲۰۰۷ء، جلد ۵ صفحه ۱۹۳، ۱۹۴) پھر اللہ تعالیٰ کی صفت المؤمن کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا ایک نام مُؤْمِن ہے۔مُؤْمِن کے معنی امن دینے والے کے کئے گئے ہیں۔پس ہر شخص کا انفرادی امن بھی اور معاشرے کا امن بھی اور دنیا کا امن بھی اُس ذات کے ساتھ وابستہ رہنے سے ہے جو امن دینے والی ذات ہے جس کا