صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 691 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 691

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۹۱ ۹۷- كتاب التوحيد حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا ایک نام السلام ہے۔قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر اللہ تعالیٰ نے اس لفظ سلام کو مختلف پیرایوں میں استعمال فرمایا ہے۔اپنی صفت کے حوالے سے بھی بیان فرمایا ہے اور مومنوں کو اس صفت کو اختیار کرنے کی طرف توجہ ولاتے ہوئے بھی فرمایا ہے۔اس کے معانی مختلف مفسرین اور اہل لغت نے کئے ہیں، تفسیر الطبری میں علامہ ابو جعفر محمد کہتے ہیں کہ السّلام وہ ذات ہے جس کی مخلوق اس کے ظلم سے محفوظ رہے۔پھر ابوالحسن الترمذی کے نزدیک السّلام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔اللہ تعالیٰ کو السّلام اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر نقص، عیب اور فنا سے سلامت ہے۔جبکہ بعض دوسرے علماء کے نزدیک وجہ تسمیہ یہ ہے یعنی اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان آفتوں سے سلامت ہے جو دوسروں کو تغیر اور فناوغیرہ کی پہنچتی رہتی ہیں۔نیز یہ کہ وہ ایسا باقی رہنے والا دائی وجود ہے کہ تمام مخلوقات فنا ہو جائیں گی مگر اس پر فنا نہیں۔وہ ہر ایک چیز پر دائمی قدرت رکھنے والا ہے۔پھر تفسیر روح البیان میں لکھا ہے السّلام ہر قسم کی آفت اور نقص سے محفوظ ہے، تمام تر نقائص سے پاک ہونے کی وجہ سے اور سلامتی عطا کرنے میں بڑھا ہوا ہونے کی وجہ سے اُسے السلام کہا گیا ہے۔اور آنت السّلام حدیث میں آتا ہے، ( ترمذی کتاب الصلاة باب ما یقول اذا سلم من الصلاۃ حدیث : ۳۰۰) نماز کے بعد جو دعا پڑھتے ہیں اس میں بھی استعمال ہوا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ تو وہ ذات ہے جو ہر قسم کے عیب سے پاک ہے اور ہر قسم کے نقص اور کمی سے مبرا ہے۔اور حدیث میں جو یہ ہے کہ منك السلام تو اس سے مراد یہ ہے کہ تُو وہ ذات ہے جو ایک بے کس شخص کو ناپسندیدہ اور تکلیف دہ امور سے محفوظ کرتی ہے اور دونوں جہانوں کی تکلیفوں اور مصیبتوں سے چھٹکارا دلاتی ہے اور تُو وہ ذات ہے جو ایمان لانے والوں کے گناہوں اور عیوب کی پردہ پوشی کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ قیامت والے دن کی رسوائی سے سلامتی میں ہوں گے۔یہ لکھتے ہیں کہ منك