صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 690 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 690

صحیح البخاری جلد ١٦ ۶۹۰ ۹۷- كتاب التوحيد اور رسول کا دامن پکڑنے کے توحید کامل حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور جو شخص اپنی کسی قوت کو شریک باری ٹھہراتا ہے وہ کیونکر موحد کہلا سکتا ہے۔“ (حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲، صفحہ ۱۴۸،۱۴۷) بَابه : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى السَّلْمُ الْمُؤْمِنُ (الحشر : ٢٤) اللہ تع تعالیٰ کا یہ فرمانا: وہ ہر عیب سے سلامت ہے ( اور دوسروں کو سلامت رکھ کو سلامت رکھتا ہے ) سب کو امن دینے والا ہے ۷۳۸۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۷۳۸۱: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُغِيرَةٌ حَدَّثَنَا زُہیر نے ہمیں بتایا۔ مغیرہ نے ہم سے بیان کیا کہ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللهِ كُنَّا شقیق بن سلمہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا: نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت عبد اللہ کہتے تھے: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ فَيَقُولُ السَّلَامُ عَلَى اللهِ فَقَالَ کے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔ ہم کہتے: اللہ پر النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ سلامتی ہو ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر ) هُوَ السَّلَامُ وَلَكِنْ قُولُوا التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ فرمایا: اللہ تو خود السلام ہے بلکہ تم یوں کہا کرو: وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ تمام زبانی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور بدنی عبادتیں اور مالی عباد میں بھی اللہ ہی کے لئے أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ ہیں) اے نبی تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت اور عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ اس کی برکتیں ہوں اور سلامتی ہو ہم پر بھی اور أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ اللہ کے نیک بندوں پر بھی۔ میں گواہی دیتا ہوں مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ۔ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے۔ أطرافه: ۸۳۱، ۸۳۵، ۱۲۰۲، ٦٢۳۰، ٦٢٦٥، ٦٣٢٨۔ تشریح : السلمُ الْمُؤْمِنُ : اللہ تعالی کا یہ فرمانا: وہ ہر عیب سے سلامت ہے (اور دوسروں کو سلامت رکھتا ہے) سب کو امن دینے والا ہے۔