صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 689 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 689

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۸۹ ۹۷ - كتاب التوحيد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات بارش ہونے پر فرمایا کہ آج بعض لوگوں نے اس حالت میں صبح کی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مومن ہیں اور ستاروں کی تاثیرات کے منکر اور بعض اللہ تعالیٰ کے منکر اور ستاروں کے مومن غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح تعلیم اور تربیت کا مبارک نتیجہ یہ ہے کہ آج تک مسلم قومیں اس مشرکانہ ذہنیت سے محفوظ ہیں۔الساعۃ سے قومی تباہی بھی مراد ہوتی ہے۔(دیکھئے کتاب الایمان، تشریح باب ۳۷، کتاب العلم، تشریح باب ۲۱) رتالوں، جو تشیوں، کاہنوں اور ہیئت دانوں کی مذکورۃ النوع پیشگوئیوں کے برعکس سر چشمہ وحی الہی سے خبر پانے والے انبیاء اور رسل کے تحدی آمیز اعلانات ہیں جو یقینی اور حتمی اندار و تبشیر کی خبروں پر مشتمل ہوتے ہیں اور بالکل مخالفانہ حالات میں غیر متوقع طور پر پورے ہو کر خدا نمائی کا ذریعہ بنتے اور مردہ ایمانوں کو زندہ کر کے بنی نوع انسان کے تزکیہ نفس اور برکات کا موجب ہوتے ہیں۔"6 (صحیح البخاری، ترجمه و شرح کتاب التفسير سورة الرعد ، جلد ۱۰ صفحه ۴۶۲ تا ۴۶۴) وَمَن حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ : جو تم سے یہ بیان کرے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی ذات تو مخفی در مخفی اور غیب در غیب اور وراء الوراء ہے اور کوئی عقل اس کو دریافت نہیں کر سکتی جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدرِكُ الْأَبْصَارَ (الأنعام: ۱۰۴) یعنی بصارتیں اور بصیرتیں اسکو پا نہیں سکتیں اور وہ اُن کے انتہا کو جانتا ہے اور اُن پر غالب ہے۔پس اُس کی توحید محض عقل کے ذریعہ سے غیر ممکن ہے کیونکہ توحید کی حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ انسان آفاقی باطل معبودوں سے کنارہ کرتا ہے یعنی بتوں یا انسانوں یا سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے دستکش ہوتا ہے۔ایسا ہی انفسی باطل معبودوں سے پر ہیز کرے یعنی اپنی روحانی جسمانی طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے اور اُن کے ذریعہ سے عجب کی بلا میں گرفتار ہونے سے اپنے تئیں بچاوے۔پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ بجز ترک خودی