صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 688
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۸۸ ۹۷ - كتاب التوحيد بیان کی گئی ہے کہ اس دن آٹھ سیارے برج جدی میں اکٹھے ہوں گے۔جو تشیوں اور بیت دانوں کی اسی پیشگوئی سے نہ صرف ہندوستان میں سخت تشویش پھیل گئی بلکہ برٹش سوسائٹی کے ایک سو ارکان ۴ فروری ۱۹۶۲ء کو قیامت کی تباہ کاریوں سے دنیا کو بچانے کے لئے ایک پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ گئے اور ساری رات دعا کرتے رہے اور دوسرے دن انہوں نے اعلان کیا کہ ہم نے دعاؤں سے قیامت کی گھڑی پھر کئی ماہ کے لئے ٹال دی ہے ورنہ زبر دست اندیشہ تھا کہ چاند کے برج جدی میں داخل ہونے سے دنیا میں قیامت برپا ہو جاتی اور سورج گرہن ہونے پر ابھی تک اس خطرے کا امکان ہے اور سوسائٹی کے ارکان انگلستان اور ویلز کے پہاڑوں کی چوٹیوں پر ابھی تک بیٹھے عبادت اور دعا میں مشغول ہیں۔اس سوسائٹی کا اپنے متعلق یہ زعم ہے کہ ان کا مریخ اور زہرہ سیاروں کی مخلوق سے روحانی تعلق ہے۔اس بارے میں خبریں تمام دنیا کے ممالک میں اخبارات کے ذریعے کافی شہرت پاچکی ہیں کہ کسی حوالہ دینے کی ضرورت نہیں۔یہ خبر ہر ملک کے اخبارات میں جو گزشتہ دسمبر کے اواخر اور جنوری کے اوائل میں شائع ہوئے ہیں دیکھی جاسکتی ہے۔اس قسم کی متوہمانہ ذہنیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی مشرک اقوام میں بھی پائی جاتی تھی جس کی اصلاح آپ نے یہاں تک فرمائی کہ آج کل بھی مسلمان قومیں باوجود تنزل کے ان مشرکانہ تو ہمات سے محفوظ ہیں۔چنانچہ مذکورہ بالا خبروں کے ساتھ مصر، شام، پاکستان اور ایران وغیرہ اسلامی ممالک سے متعلق یہ خوش کن خبر بھی اخبارات میں آچکی ہے کہ وہ پر امید ہیں۔مصری اور عرب کے ہیئت دانوں نے اعلان کیا ہے کہ انہیں کوئی خطرہ نہیں۔خطرہ اگر ہے تو بھارت یا یونان، ہندو یا عیسائی ممالک کو ہے جن کی اکثریت مشرک اور اوہام پرست ہے اور وہاں کے لوگ اس دہشتناک خبر سے ہر اساں اور ترساں ہیں۔ان تازہ خبروں سے حدیث زیر باب کے اس پس منظر کی تصدیق ہوتی ہے جس کا ذکر عبد اللہ بن دینار نے کیا ہے۔یہ قیاس ہی نہیں بلکہ امر واقعہ ہے۔آنحضرت