صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 687
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۸۷ ۹۷ - كتاب التوحيد ہے (سب) اسی کا ہے۔کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور میں سفارش کرے۔جو کچھ اُن کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ (سب ہی کچھ ) جانتا ہے۔اور وہ اُس کی مرضی کے سوا اُس کے علم کے کسی حصہ کو (بھی) پا نہیں سکتے۔اس کا علم آسمانوں پر (بھی) اور زمین پر (بھی) حاوی ہے۔اور ان کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔اور وہ بلندشان رکھنے) والا (اور) عظمت والا ہے۔تورات میں جو یہ مذکور ہے: ” اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔“ پیدائش باب ۱:۲۷) اس سے یہی حقیقت تکوین مراد ہے جو ایک طرف روحانی طور پر انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ نمایاں ہو رہی ہے اور دوسری طرف انسان کے مادی ذرائع جد وجہد سے پایہ تکمیل کی طرف حرکت میں ہے۔دونوں قسم کی تحریکیں مشیت ربانی کی بروز اور ارادہ الہی کے تحت ظہور پذیر ہیں۔علامہ عینی نے بسند سفیان بن عیینہ عبد اللہ بن دینار کا قول نقل کیا ہے کہ انسان کو تو بہت سی باتوں کا علم نہیں۔پھر علم غیب کی بے شمار باتوں میں سے صرف پانچ باتوں کی تخصیص کیوں؟ اس سوال کا انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ مشرکین عرب کا یہ اعتقاد تھا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان مذکورہ بالا پانچ باتوں کا علم ان کے دیوتاؤں، کاہنوں اور جیوتشیوں کو بھی ہے، اس کی نفی کی گئی ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان پانچ باتوں کی بابت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر دریافت کیا گیا ہو۔ورنہ صرف پانچ باتوں کے ذکر سے تعداد کے بارہ میں استدلال درست نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۱۸ صفحه ۳۱۳)۔۔عبد اللہ دینار کا قیاس صحیح معلوم ہوتا ہے۔نہ صرف گزشتہ زمانوں ہی میں مشرکین عرب و عجم دیوتاؤں، کاہنوں اور جوتشیوں کی غیب دانی کا عقیدہ رکھتے تھے بلکہ ہمارے اس ترقی یافتہ زمانہ میں بھی علم و عرفان کا دعویٰ کرنے والی قوموں کی ذہنی پستی مشرک اور جاہل اقوام کے ذہنی افق سے بلند نہیں ہوئی ہے۔مشرق و مغرب کے اخبارات میں آج کل چر چاہے کہ ہیئت دانوں اور جوتشیوں کے علم نجوم نے معلوم کیا ہے کہ قیامت کی گھڑی ۵ فروری ۱۹۶۲ء کو قائم ہو گی۔اس دن ساری دنیا کی تباہی ہے اور اس قیامت کے ظہور کی یہ وجہ