صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 686
صحیح البخاری جلد ۱۶ YAY ۹۷ - كتاب التوحيد ہے۔مثلاً فضائے آسمانی کے طبعی تغیرات معلوم کرنے کے لئے آلات بنائے جاچکے ہیں اور ان کے ذریعہ معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں جگہ فلاں وقت بارش ہو گی۔قدیم زمانے میں صحرائے عرب کے باشندے ہو اؤں کی خنکی و کثافت اور اُن کے چلنے کی سمت سے اندازہ کر لیا کرتے تھے کہ برسات ہونے والی ہے۔حدیث کا مفہوم اس قدر ہے کہ مذکورہ بالا غیب کی باتوں کے لئے کچھ اکلیدیں ہیں۔جب اُن چابیوں میں سے کوئی چابی انسان کو ملتی ہے تو وہ اس کے ذریعہ سر بستہ راز معلوم کرنے کی قدرت حاصل کر لیتا ہے۔آیت کا یہ مفہوم ہرگز نہیں کہ انسان کو مثلاً کل ہونے والی بات کا علم قطعاً نہیں دیا جاتا۔بحالیکہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے اور مشہور ہے کہ حوادث کا بھی سایہ ہوتا ہے جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ فلاں بات ہونے والی ہے۔اس کا اس غیب دانی سے کوئی تعلق نہیں جو حدیث کا موضوع ہے بلکہ رویاء صالحہ ، مکاشفہ اور وحی کے ذریعہ سے اسے آئندہ کا علم ہو جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ دجال سے متعلق جو تفصیلات بیان کی ہیں وہ حیرت انگیز ہیں اور آپ کی وسعت علم و نظر اور دور از قیاس و فکر ، آپ کے روحانی مشاہدات پر بین اور ناقابل انکار شہادت ہیں۔اللہ تعالٰی نے نَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحی (الحجر: ۳۰) انسان میں اپنی روح پھونکی ہے اور اسے اپنے صفات سے متصف کر کے تمام دیگر مخلوقات سے ممتاز کیا ہے اور اس کے اس امتیاز کا طبعی تقاضا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے صفات علم و قدرت وغیرہ سے بہرہ ور ہو۔حدیث نبوی کا یہ مفہوم نہیں کہ انسان مذکورہ بالا باتوں کا علم حاصل نہیں کر سکتا۔بلکہ لفظ مفاتیح دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسرار کائنات کے معلوم کرنے کے لئے چابیاں رکھی ہیں جن کے ذریعہ سے وہ معلوم کئے جاسکتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَهُ مَا فِي السَّمَوتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِةٍ إلا بِمَا شَاء وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّبُوتِ وَالْاَرْضَ ، وَلَا يَعُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرة: ۲۵۶) جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں b