صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 685 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 685

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۸۵ ۹۷۔کتاب التوحيد تشريح۔عَلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة أَحَدًا : اللہ تعالی کا فرمانا: غیب کا جانے والا وہی ہے اور وہ اپنے غیب پر کسی کو غالب نہیں کرتا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: استجابت دعا کے ساتھ اگر حسب مراد کوئی امر غیب خدا تعالیٰ کسی پر ظاہر کرے اور وہ پورا ہو جائے تو بلاشبہ اس کی قبولیت پر ایک دلیل ہو گی اور یہ کہنا کہ نجومی یار تال اس میں شریک ہیں یہ سراسر خیانت اور مخالف تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبَة أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ“ (نشان آسمانی، روحانی خزائن جلد ۴، صفحه ۳۹۴) آپ علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: غیب کا ایسا دروازہ کسی پر کھولنا کہ گویا وہ غیب پر غالب اور غیب اُس کے قبضہ میں ہے یہ تصرف علم غیب میں بجز خدا کے برگزیدہ رسولوں کے اور کسی کو نہیں دیا جاتا کہ کیا باعتبار کیفیت اور کیا باعتبار کمیت غیب کے دروازے اُس پر کھولے جائیں ہاں شاذ و نادر کے طور پر عام لوگوں کو کوئی سچی خواب آسکتی ہے یا سچا الہام ہو سکتا ہے اور وہ بھی تاریکی سے خالی نہیں ہوتا مگر غیب کے دروازے اُن پر نہیں کھلتے یہ موہبت محض خدا کے برگزیدہ رسولوں کے لئے ہوتی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲، صفحه ۳۵۰،۳۴۹) مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْس لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللهُ: غیب کی چابیاں پانچ ہیں جنہیں کوئی نہیں جانتا مگر اللہ ہی۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: و علم الہی سے متعلق پانچ باتیں بتائی گئی ہیں جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور اکلید قرار دیا ہے۔یعنی وہ ایسے راز ہیں کہ جنہیں جب تک اللہ تعالیٰ نہ کھولے کوئی نہیں جانتا۔ان میں سے ایک بات مستقبل کا علم، دوسری بات مشیرہ برحم میں جو کمی بیشی ہو رہی ہے، بچے کی تکوین میں کیا کیا مؤثرات اثر انداز ہیں اور وہ کس شکل میں آئندہ نمایاں ہوں گے۔تیسری بات بارش کب نازل ہو گی۔چوتھی بات موت کا علم کسی نفس کو نہیں کہ وہ کس جگہ واقع ہوگی۔پانچویں بات قیامت یا تباہی کی گھڑی کب واقع ہو گی۔غیب کی یہ پانچوں باتیں علم الہی میں ہیں۔ان میں سے جو باتیں جتنی جتنی اللہ تعالیٰ کسی کے لئے کھولتا ہے اتنا ہی اسے علم ہوتا