صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 677 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 677

صحیح البخاری جلد ١٦ ۶۷۷ اس لئے اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وہ جمیع صفات کا ملہ پر مشتمل ہے۔“ " ۹۷- كتاب التوحيد براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اول حاشیه صفحه ۴۳۵، ۴۳۶) فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنى : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن مجید میں اور حدیث میں مختلف دعائیں اور ان کے مواقع کا ذکر ہے اسلئے فرماتا ہے کہ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْٹی ہر کام کے لئے اس کے مناسب حال اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہوتا ہے ۔ اس کے مطابق دعا کیا کرو۔ جب تمہیں رحمانیت کی صفت کو جوش دلانے کی ضرورت ہو تو صفت الرحمن کو پیش کر کے دعا کرو۔ جب تمہیں رحیمیت ، رزاقیت اور وہابیت کے متعلق کوئی مشکل در پیش ہو تو اللہ تعالیٰ کو اس وقت اسی نام سے پکارو۔ کیونکہ سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔ جیسا موقعہ ہو ویسی ہی قسم کی صفت کے ساتھ دعا کرنی چاہیئے ۔ میرا تجربہ ہے کہ اس طریق پر دعا نہایت موثر ہوتی ہے۔ بعید نہیں کہ اس آیت میں یہود کے اسم اعظم والے دعویٰ کا بھی جواب دیا گیا ہو۔ اور بتایا ہو کہ کسی ایک نام کو اسم اعظم کہنا غلطی ی ہے۔ حصول مقاصد کے لئے خدا تعالیٰ کے اس نام کو لینا چاہیے جو موقعہ کے مناسب ہو۔ اور اگر وہ نام ذہن میں نہ آئے تو اللہ تعالیٰ کے سب نام ہی بڑے ہیں کسی نام کو لے کر دعا کر لو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی کیفیت کو دیکھ کر دعا سن لے گا۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ بنی اسرائیل، زیر آیت قُلِ ادْعُوا اللهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحمن جلد چہارم صفحہ ۴۰۱) لا يَرْحَمُ اللهُ مَنْ لا يرحم الناس : حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام کی تعلیم میں نیکی کا دائرہ عمل کتنا وسیع ہے کہ ہر ذی روح کو شامل رکھتا ہے اور اس میں ہر عمل نتیجہ خیز بتایا گیا ہے۔ ہر ذی روح کے ساتھ رحم اور شفقت کی تعلیم اس دور میں بھی پائی جاتی تھی جسے ہندو پر اچین کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ چنانچہ پائی اس تعلیم کا نیک اثر قدیم ترین اقوام میں اب تک پایا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک پرند اور چرند کے لئے خوراک اور پانی مہیا کر نا بڑا کار ثواب ہے۔ فرماتا ہے: وفی أمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَ المَحْرُومِ (الذاريات: ۲۰) یعنی مومنوں کے مالوں میں سائل اور محروم دونوں کا حق ہے۔“ " ( صحیح بخاری ترجمه و شرح كتاب المَظَالِمِ ، بَابُ الآبار التي على الطريق، جلد ۴ صفحه ۴۸۳،۴۸۲)