صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 676 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 676

صحيح البخاری جلد ١٦ ٦٧٦ ۹۷- كتاب التوحيد أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لے لے اور اسی کا ہے جو وہ فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ فَأَعَادَتِ دے دے اور اس کے پاس ہر شے کا ایک وقت الرَّسُولَ أَنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَيَأْتِيَنَّهَا مقرر ہے ۔ اس سے کہو کہ وہ صبر کرے اور اللہ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی رضا مندی چاہے۔ آپ کی ؟ کی بیٹی نے پیغام رساں وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ کو واپس بھیجا کہ وہ قسمیں دیتی ہے کہ آپ اس جَبَلٍ فَدُفِعَ الصَّبِيُّ إِلَيْهِ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ کے پاس ضرور آئیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور حضرت سعد بن عبادہؓ اور حضرت كَأَنَّهَا فِي شَةٍ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ معاذ بن جبل بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہو لَهُ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ گئے۔ وہ بچہ آپ کو دیا گیا اور اس کا دم ٹوٹ رہا تھا هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ جیسے کہ وہ دم پرانی مشک میں ہے۔ یہ دیکھ کر عِبَادِهِ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ آپؐ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ حضرت الرُّحَمَاءَ۔ سعد نے آپ سے کہا: یا رسول اللہ ! یہ کیا؟ آپ نے فرمایا: یہ رحمت ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈالا ہے اور اللہ بھی اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم کرتا ہے جو رحم کرتے ہیں۔ أطرافه: ١٢٨٤، ٥٦٥٥ ، ٦٦٠٢، ٦٦٥٥، ٧٤٤٨۔ تشريح ۔ قَوْلُ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنَ ۔ فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى: اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ فرمانا: تم اللہ کو پکارو یا رحمن کو پکارو۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود بر حق اور مستجمع جمیع صفات کاملہ اور تمام رذائل سے منزہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآن شریف میں اپنے نام اللہ کو تمام دوسرے اسماء وصفات کا موصوف ٹھہرایا ہے اور کسی جگہ کسی دوسرے اسم کو یہ رتبہ نہیں دیا۔ پس اللہ کے اسم کو بوجہ موصوفیت تامہ ان تمام صفتوں پر دلالت ہے جن کا وہ موصوف ہے اور چونکہ وہ جمیع اسماء اور صفات کا موصوف ہے