صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 678 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 678

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۷۸ ۹۷- كتاب التوحيد لَا يَرْحَمُ اللهُ مَنْ لَّا يَرْحَمُ النّاس : حضرت مصلح موعود رضی اللہ ع دعنہ فرماتے ہیں: مومنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ایک کو اُس کا حق ادا کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّابِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاريات: ع 1) که مومن کے اموال میں سائل اور محروم دونوں کا حق ہے۔ اُن کا بھی جو مانگ سکتے ہیں اور اُن کا بھی جو مانگ نہیں سکتے۔ جیسے کم گو اور گری ہوئی اقوام یا جانور وغیرہ ہیں۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احادیث میں بھی اس امر کا خیال رکھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ایک عورت کو محض اس لئے جنت میں داخل کیا گیا کہ اُس نے پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا۔ اسی طرح آپ نے فرمایا ہے: جانوروں پر رحم کیا کرو کیونکہ خدا نے ان کو تمہارے سپر د کیا ہے۔ تو روحانی تعلیم صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ جانوروں کے لئے بھی امن پیدا کرتی ہے۔“ ( تفسير كبير ، سورة النازعات، زیر آیت مَتَاعًا لَكُمْ وَلا نْعَامِكُمْ ، جلد ۸ صفحه ۱۳۵) قدفِعَ الصَّبِيُّ إِلَيْهِ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَيْ: وہ بچہ آپ کو دیا گیا اور اس کا دم ٹوٹ رہا تھا جیسے کہ وہ دم پرانی مشک میں ہے۔ حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ فرماتے ہیں: روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے پیغام بھیجنے کا جو ذکر ہے اس بارے میں دو طرح کی روایتیں ہیں۔ ایک میں صبحی (یعنی بچہ) مروی ہے۔ یہ حسن بن علی بن ابی طالب ہیں اور پیغام بھیجنے والی حضرت فاطمہ ہیں اور دوسری میں صَبِيَّةٌ (یعنی بچی) ہے۔ یہ حضرت زینب کی بیٹی حضرت امامہ تھیں جو خطرناک بیمار ہو گئی تھیں۔ ان سے متعلق بھی بعض روایتوں میں یہ الفاظ آتے ہیں: نَفَسُهَا تَقَعْقَعُ كانتها في شَن (مسند احمد بن حنبل جزء ۵ صفحہ ۲۰۷۔ روایت نمبر ۲۱۲۹۲) (اس کا سانس اکھڑنے لگا اور اس طرح آواز آنے لگی جیسے کسی پرانی مشک کی۔) اور یہ کہ انہیں دیکھ کر آپ کے آنسو بہنے لگے۔ حضرت امامہ کی بابت مروی ہے کہ اس کا سانس اکھڑنے لگا اور اس طرح آواز آنے لگی جیسے کسی مشک کی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہیں اور حضرت علی سے ان کا نکاح ہوا۔ بعض نے اس کی تاویل یہ کی ہے کہ وہ شفا پاگئی تھیں۔ علامہ ابن حجر کی تحقیق میں وہ بچی حضرت ا (صحیح مسلم، کتاب السلام ، باب فضل ساقي البهائم )