صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 674
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۷۴ ۹۷ - كتاب التوحيد حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سورۃ کے ثلث قرآن ہونے سے یہ مراد نہیں کہ یہ سورۃ قرآن کریم کے حجم کا تیسرا حصہ ہے بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اس کا مضمون خاص اہمیت رکھتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں دو بڑے فتنے پیدا ہونے والے تھے۔ایک دجالی فتنہ اور دوسرا یا جوج و ماجوج کا فتنہ۔اور ان دونوں فتنوں نے یکے بعد دیگرے اسلام کے ساتھ ٹکر لینی تھی۔ایک فتنہ خدائے واحد کی بجائے تین خداؤں کا عقیدہ لیے ہوئے ہے یعنی خدا باپ، خدا بیٹا، خداروح القدس۔اور دو سر افتنہ دہریت کا ہے یعنی وہ سرے سے خدا کا منکر ہے۔قرآن کریم نے ان ہر دو فتنوں کے عقائد کی تردید کی ہے اور صحیح عقائد کو بیان فرمایا ہے۔در حقیقت قرآن کریم کا کام توحید کو ثابت کرنا اور غلط عقائد کو مٹانا ہے۔پس جب اس سورۃ نے نہایت جامع مانع الفاظ کے ساتھ مختصر طور پر وہ مضمون ادا کر دیا جس سے غلط عقائد کا ابطال ہوتا ہے۔اور توحید کی حقیقت کو بیان کر دیا تو یہ سورۃ ثلث قرآن کیا بلکہ سارے قرآن کے برابر ہو گئی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورۃ کو ثلث قرآن قرار دینا مبالغہ نہیں بلکہ اس کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ہے۔چنانچہ اسی اہمیت کے پیش نظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اعظم السور کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ الاخلاص، جلد و هم صفحه ۵۱۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یقیناً سمجھو کہ توحید یقینی محض نبی کے ذریعہ سے ہی مل سکتی ہے جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے دہریوں اور بدمذہبوں کو ہزار ہا آسمانی نشان دکھلا کر خدا تعالیٰ کے وجود کا قائل کر دیا اور اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اور کامل پیروی کرنے والے اُن نشانوں کو دہریوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔بات یہی سچ ہے کہ جب تک زندہ خدا کی زندہ طاقتیں انسان مشاہدہ نہیں کرتا شیطان اُس کے دل میں سے نہیں نکلتا اور نہ سچی توحید اُس کے دل میں داخل ہوتی ہے اور