صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 673
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۹۷ - كتاب التوحيد ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کرستا تا اور قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ سے ختم کرتا۔جب وہ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ واپس آئے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذَلِكَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لِأَنَّهَا صِفَهُ اس کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا: اس سے پوچھو کہ الرَّحْمَنِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا فَقَالَ وہ کس وجہ سے ایسا کرتا ہے تو انہوں نے اس سے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرُوهُ پوچھا تو اس نے کہا: اس میں رحمن کی صفات کا بیان ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اس کو پڑھوں۔نبی أَنَّ اللهَ يُحِبُّهُ۔صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو بتاؤ کہ اللہ اس سے محبت رکھتا ہے۔مريح۔مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی اُمت کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کی طرف بلانے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تمام انبیاء اور رسول جو خد اتعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتے ہیں۔ان کی بعثت کا اصل منشاء یہی ہوتا ہے کہ توحید الہی کو دنیا میں قائم کریں کہ ایک خدا کی عبادت میں مخلوق کو لگا دیں۔اور غیر اللہ کی محبت اور خوف کو دلوں سے نکال کر انسان کو خدا کا بندہ بنا دیں کیونکہ دراصل تمام بدیاں اور گناہ اسی سے شروع ہوتے ہیں کہ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کے سوائے کسی دوسری چیز کی محبت یا اس کا خوف غالب آجاتا ہے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحه ۵۵۸،۵۵۷) حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ سورۃ الاخلاص کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اے رسول اس طرح کہو اور اقرار کرو اور یقین کرو اور لوگوں کو وعظ کرو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے واحد اور یگانہ ہے۔اللہ بے احتیاج ہے۔کسی کا محتاج نہیں۔بے نیاز ہے۔کسی کی اُسے کوئی پرواہ نہیں۔اس نے کوئی بیٹا بیٹی نہیں جنا۔اور نہ خود اُس کو کسی نے جنا تھا۔اور نہ اُس کا کوئی کنبہ قبیلہ شریک برادری والا اور برابری کرنے والا ہے۔“ ( حقائق الفرقان، جلد ۴ صفحہ ۵۴۹)