صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 669 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 669

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۶۹ ۹۷ - كتاب التوحيد انسانوں کے سوا تو باقی چیزیں پہلے ہی سے خدا تعالیٰ کی تسبیح کر رہی ہیں۔انسان ہی ہے جو اس میں رخنہ ڈالتا ہے اگر وہ بھی ان صفات کا حامل ہو جائے اور بجائے ایک علیحدہ وجود رکھنے کے صرف خدا تعالیٰ کے لیے ایک آئینہ بن جائے جس میں دنیا خدا تعالی کی صورت دیکھے تو بتاؤ شرک کے لیے کونسی چیز باقی رہ جاتی ہے۔سب جگہ پر خدا ہی خدا کا جلوہ نظر آجاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے سوا کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔یہی مقام تو حید ہے جس کے قائم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کھڑا کیا ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ خود توحید کے مقام پر کھڑے ہوں بلکہ دوسروں کو بھی اس مقام کی دعوت دیتے چلے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ توحید دنیا میں قائم ہوتی چلی جائے اور شرک مٹتا چلا جائے، نہ صرف زبانوں کے ذریعہ سے بلکہ اعمال کے ذریعہ سے بھی اور نہ صرف دعویٰ کے ساتھ بلکہ حقیقت کے ساتھ بھی۔“ ( خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرموده ۱۹ مارچ ۱۹۳۷، جلد ۱۸ صفحه ۶۱، ۶۲) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: قرب الہی کے لئے یہ ضروری بات ہے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ اللہ پر عمل ہو، کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی صفات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اُن کی عزت نہ کرے گا اور اُن کا اپنی حالت اور اخلاق سے نہ دکھائے۔وہ خدا کے حضور کیونکر جاسکتا ہے۔مثلاً خدا کی ایک صفت قدوس ہے۔پھر ایک ناپاک، غلیظ، ہر قسم کے فسق و فجور کی ناپاکی میں مبتلا انسان اللہ تعالیٰ کے حضور کیونکر جاسکتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ سے تعلق کیونکر پیدا کر سکتا ہے۔“ (ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۲۷۶،۲۷۵) بَاب ۱ : مَا جَاءَ فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّتَهُ إِلَى تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنی اُمت کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی توحید کی طرف بلانے کے متعلق جو حدیثیں آئی ہیں ۷۳۷۱: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ حَدَّثَنَا ۷۳۷۱: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا کہ زکریا بن