صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 668
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۶۸ ۹۷ - كتاب التوحيد یہ چار صفات بندے کو اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں تب جاکر وہ اپنے مقصد کو پورا کرنے والا قرار دیا جا سکتا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔یعنی اس کے لیے ضروری ہے کہ جس حد تک انسان رب العلمین کی صفت کا مظہر ہو سکتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کا ظل ثابت کرے اور جس حد تک انسان رحمانیت کا مظہر ہو سکتا ہے وہ اپنے آپ کو رحمانیت کا نمائندہ ثابت کرے اور جس حد تک انسان الر حیم کے جلوہ کو ظاہر کر سکتا ہے وہ رحیمیت کی روشنی کو دنیا میں پھیلائے اور جس حد تک وہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کا نمونہ قائم کر سکتا ہے وہ مَالِكِ يَوْمِ الدین کی شکل دنیا کو دکھائے۔اور اگر ہم غور کریں تو یہی ذریعہ توحید کامل کے قائم کرنے کا ہے کیونکہ شرک تو در حقیقت دوئی سے پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے کہ انسان کے سوا دنیا کا ذرہ ذرہ خد اتعالیٰ کی صفات کو ظاہر کرتا اور اس کی سبوحیت کو بیان کر رہا ہے پس اگر کوئی شرک کی چیز باقی رہ گئی تو وہ صرف انسان کا وجود ہی ہے۔یہی چیز ہے جو کبھی خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں دوسرے خدا قرار دیتی ہے، کبھی خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق دوسری چیزوں کو دے دیتی ہے، کبھی خدا تعالیٰ کے وجود کا ہی انکار کر بیٹھتی ہے۔کبھی اس کی صفات میں نقائص پیدا کرتی ہے، کبھی بری چیزیں اس کی طرف منسوب کرنے لگ جاتی ہے۔کبھی ان چیزوں کو خدا بنادیتی ہے جن کو خدا نے اس کے تابع بنایا ہے اور کبھی اپنے میں سے کسی آدمی کو خدا تعالیٰ کی صفات دے دیتی ہے۔باوجود ایک کمزور مخلوق ہونے کے یہ عجوبہ چیز خدا تعالیٰ سے بھی بڑھ کر کام کر کے دکھانا چاہتی ہے۔یعنی صفات کا وہ کامل ظہور جو خدا تعالیٰ نے اپنے لئے مخصوص کر دیا ہے، یہ ان کا خلعت بھی دوسرے لوگوں کو بخش دیتی ہے۔گویا انسان کہلاتے ہوئے خدا اگر بنا چاہتی ہے۔اس مخلوق میں اگر فی الحقیقت خدائی صفات جلوہ گر ہو جائیں، اگر تمام انسان اپنے اندر ربوبیت عالمین اور رحمانیت اور رحیمیت اور مالکیت یوم الدین کی صفات کا پر تو پید ا کر لیں تو پھر دنیا میں سوائے خدا کے اور کونسی چیز باقی رہ جاتی ہے۔