صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 667 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 667

صحیح البخاری جلد ١٦ ٦٦٧ ۹۷- كتاب التوحيد بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے اور وہ لمْ يُولَدُ ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے اور وہ وَ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں تا با عتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔ سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لا شریک ہے۔“ براہین احمدیہ ، روحانی خزائن جلد اول، حاشیه در حاشیہ نمبر ۳ صفحه ۵۱۸) الرَّدُّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ وَغَيْرِهِمْ : ابو منصور عبد القاهر بن طاہر تمیمی نے اپنی کتاب الْفَرْقُ بَيْنَ الْفِرَقِ میں بدعتی گروہوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جہمیہ، جہم بن صفوان کے پیرو کار تھے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی صفات حي ، عالم اور مرید کا انکار کرتے ہوئے یہ کہا کہ میں اُس کا کوئی ایسا وصف تسلیم نہیں کرتا جس کا اطلاق اُس کے علاوہ کسی اور پر بھی ہو سکے۔ اور کہا کہ میں اس کی صفات خالق، محی، حمیت اور موحد بیان کرتا ہوں کیونکہ یہ صفات صرف اُسی سے خاص ہیں۔ علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ جہمیہ وغیرہ بدعتی فرقے توحید کا انکار نہیں کرتے تھے، وہ صرف اس کے مفہوم اور تفسیر میں اختلاف کیا کرتے تھے۔ ان کا اعتقاد تھا کہ صفات الہیہ کا اثبات چونکہ تشبیہ کو مستلزم ہے لہذا جس نے بھی اللہ تعالیٰ کو اس کی مخلوق کے مشابہ قرار دیا (یعنی یہ کہا کہ صفات باری تعالیٰ کا کسی قدر ظہور مخلوق سے بھی ممکن ہے ) اُس نے شرک کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جہمیہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرتے ہوئے انہیں معطل تک ٹھہرا دیتے تھے۔ امام ابو حنیفہ نے بیان کیا کہ جہم نے صفاتِ باری تعالیٰ کی تشبیہ کے انکار میں اس قدر مبالغہ کیا کہ یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ کچھ بھی نہیں ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۴۲۱، ۴۲۲) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: التوسل رسول کریم صلی اللیم کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پیدائش کی غرض جو قرآن کریم میں عبودیت کا مقام حاصل کرنا بیان کی گئی ہے، اس کی تشریح دوسرے لفظوں میں تَخَلقُوا بِأَخْلاقِ اللہ ہے یعنی انسان اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپنے اندر اختیار کرے اور اس کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کی صفات ظاہر ہوں۔ اسی غرض کی طرف اشارہ کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ان چار جامع صفات کے ساتھ شروع کیا ہے جن کے ماتحت باقی سب صفات آجاتی ہیں اور وہ چار صفات یہ ہیں کہ اول خدا تعالیٰ ہے۔ دوم وہ الرحمن ہے۔ سوم وہ رحیم - ہے اور چہارم وہ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔