صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 666
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۶۶ ۹۷ - كتاب التوحيد پیدا کرنے کی قدرت نہ کسی مادہ کی محتاج ہے نہ کسی وقت کی محتاج اور غیر محدود ہے کیونکہ اس کی تمام صفات بے مثل و مانند ہیں اور جیسے کہ اس کی کوئی مثل نہیں اس کی صفات کی بھی کوئی مثل نہیں۔۔۔اگر ایک صفت میں وہ ناقص ہو تو پھر تمام صفات میں ناقص ہو گا۔اس لئے اس کی توحید قائم نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ اپنی ذات کی طرح اپنے تمام صفات میں بے مثل و مانند نہ ہو۔پھر اس سے آگے آیت ممدوحہ بالا کے یہ معنے ہیں کہ خدا نہ کسی کا بیٹا ہے اور نہ کوئی اس کا بیٹا ہے۔کیونکہ وہ غنی بالذات ہے۔اس کو نہ باپ کی حاجت ہے اور نہ بیٹے کی۔یہ تو حید ہے جو قرآن شریف نے سکھلائی ہے جو مدار ایمان ہے۔“ نیز فرمایا: لیکچر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۵،۱۵۴) کوئی توحید بغیر ان تین قسم کی تخصیص کے کامل نہیں ہو سکتی۔اول ذات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ اس کے وجود کے مقابل پر تمام موجودات کو معدوم کی طرح سمجھنا اور تمام کو بالکۃ الذات اور باطنة الحقیقت خیال کرنا۔دوم صفات کے لحاظ سے توحید یعنی یہ کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا۔اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رسان نظر آتے ہیں یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خد اتعالیٰ کا شریک نہ گرداننا۔اور اسی میں کھوئے جانا۔“ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۵۰) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: شرکت از روئے حصر عقلی چار قسم پر ہے کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔سواس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مر تبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور بالک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں اور وہ لم یلد ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ