صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 665
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۶۵ ۹۷ - كتاب التوحيد بسم الله الرحمن الرحيم ٩٧ - كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَ الرَّدْ عَلَى الْجَهَميَّةِ وَغَيْرِهِمْ } توحید کا بیان اور جہمیوں وغیرہ کارڈ 0000000 ابو القاسم تمیمی لفظ توحید کے معانی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ یہ لفظ وَخَدَ يُوحِد سے مصدر ہے اور وَحدتُ اللہ کے معنی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں منفرد اور اکیلا تسلیم کرتا ہوں، نہ تو اس کا کوئی نظیر ہے اور نہ ہی کوئی اُس کے مشابہ ہے۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۴۲۱) علامہ ابن ملقن بیان کرتے ہیں کہ اعتقاد یہ چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ اپنی عظمت شان میں ایسا ہے کہ اُس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز بھی اس کے مشابہ نہیں اور نہ ہی اُسے کسی سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔اور اس بارہ میں خلق اور مخلوقات پر شریعت نے جو بھی اطلاق کیا ہے وہ مشابہت حقیقی معنی میں نہیں ہے، کیونکہ قدیم کی صفات مخلوق کی صفات سے مختلف ہیں۔جیسا کہ اُس کی ذات دیگر وجودوں سے مشابہت نہیں رکھتی اسی طرح اُس کی صفات بھی مخلوق کی صفات سے مشابہ نہیں۔علامہ واسطی کا قول ہے کہ اس ذات کی مثل کوئی ذات نہیں اور اس کے اسم کے مثل کوئی اسم نہیں اور اس کے فعل کے مثل کوئی فعل نہیں اور نہ ہی اس کی صفت کے مثل کوئی صفت ہے ، ہاں دونوں میں صرف لفظی موافقت ہے۔(التوضيح لشرح الجامع الصحیح، جزء۳۳ صفحه ۱۷۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: قرآن میں ہمارا خدا اپنی خوبیوں کے بارے میں فرماتا ہے: قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ الله الصمده لَمْ يَلِدُ وَلَمْ يُولَدُه وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا اَحَدُه (الاخلاص: ۲ تا ۵) یعنی تمہارا خداوہ خدا ہے جو اپنی ذات اور صفات میں واحد ہے نہ کوئی ذات اُس کی ذات جیسی از لی اور ابدی یعنی انادی اور اکال ہے نہ کسی چیز کے صفات اُس کی صفات کے مانند ہیں۔انسان کا علم کسی معلم کا محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر اُس کا علم کسی معلم کا محتاج نہیں اور با ایں ہمہ غیر محدود ہے۔انسان کی شنوائی ہوا کی محتاج ہے اور محدود ہے مگر خدا کی شنوائی ذاتی طاقت سے ہے اور محدود نہیں۔اور انسان کی بینائی سورج یا کسی دوسری روشنی کی محتاج ہے اور پھر محدود ہے مگر خدا کی بینائی ذاتی روشنی سے ہے اور غیر محدود ہے۔ایسا ہی انسان کی پیدا کرنے کی قدرت کسی مادہ کی محتاج ہے اور نیز وقت کی محتاج اور پھر محدود ہے۔لیکن خدا کی 1 یہ الفاظ مستملی کی روایت کے مطابق ہیں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۵ صفحہ (۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔