صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 664 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 664

صحیح البخاری جلد ۱۶ حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ر آن شریف کا حکم ہے کہ اَمْرُهُمْ شُوری بَيْنَهُمْ ۔ مشورہ کرنا ایسا پاک اصول ہے کہ اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور برکت عطا ہوتی ہے اور انسان کو ندامت نہیں ہوتی مگر خود پسندی اور کبر ایسی امراض ہیں کہ انہوں نے شیطان اور انسان دونوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ دیکھو ہر انسان ایسی پختہ عقل اور فہم رسا کہاں رکھتا ہے کہ خود بخود اپنی عقل سے ساری تدابیر کرلے اور کامیاب ہو جاوے۔ یہ ہر ایک انسان کا کام نہیں۔ اسی واسطے مشورہ کرنا ضروری رکھا گیا۔ ناتجربہ کار تو نا تجربہ کار ہی ہے مگر اکثر اوقات بڑے بڑے تجربہ کار بھی مشورہ نہ کرنے کی وجہ سے سخت سے سخت ناکامیوں میں مبتلا ہو کر بڑی بڑی ندامتیں برداشت کرتے ہیں۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: حقائق الفرقان، جلد ۳ صفحه ۵۴۹) اگر کسی کا یہ ارادہ ہو کہ بلا استصواب کتاب اللہ اس کا حرکت و سکون نہ ہو گا اور اپنی ہر ایک بات پر کتاب اللہ کی طرف رجوع کرے گا تو یقینی امر ہے کہ کتاب اللہ مشورہ دے گی جیسے فرمایا: وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِينٍ (الانعام : ٢٠) سو اگر ہم یہ ارادہ کریں کہ ہم مشورہ کتاب اللہ سے لیں گے تو ہم کو ضرور مشورہ ملے گا۔ (ملفوظات، جلد اول صفحہ ۱۰)