صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 656 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 656

صحیح البخاری جلد ۱۶ YAY ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة فقدان ہے۔“ ( خطبات ناصر ، خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء، جلد ۴ صفحه ۴۲۱،۴۲۰) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب نبی وفات پاگئے اور اُن کی تعلیم پر ایک لمبا زمانہ گذر گیا تو اُن کے ماننے والوں نے ہی غفلت میں مبتلا ہو کر اُن کی تعلیم کو کوئی اور شکل دے دی اور نئے نئے مذہب بن گئے۔اور چونکہ ہر ایک مذہب میں تھوڑی تھوڑی سچائیاں موجود ہیں اُن کے مانے والے اُن سچائیوں کو پیش کر کے خوش ہیں کہ دیکھو ہم سچے ہیں۔حالانکہ جب سچے مذہب کے انہوں نے ٹکڑے کئے تو ضرور تھا کہ اُن میں سچائی بھی ہو۔پس اُس سچائی کا وجود اُن کے سچا ہونے کی علامت نہیں، سچا وہ ہے جس کے پاس کامل تعلیم ہو۔تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ المومنون، جلد ۶ صفحه ۱۸۲) اقْرَءُوا الْقُرْآنِ مَا انْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ: معنونہ حدیث کے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے ابن جوزی کہتے ہیں کہ صحابہ کرام کے درمیان آیات قرآنی کی قراءات اور معانی کے بارے میں اختلاف ہو جایا کرتا تھا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے اختلاف کے موقع پر اُٹھ جانے کا حکم دیا تا ایسا نہ ہو کہ اُن میں سے کوئی کسی دوسرے کو اس کی قراءت کی وجہ سے جھوٹا قرار دے کر خود اُس کا انکار کرنے والا بن جائے جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے۔علامہ ابن الملقن بیان کرتے ہیں کہ اس حدیث میں باہمی الفت کے متعلق ترغیب دلائی گئی ہے اور دین کے معاملہ میں تفرقہ بندی سے تعبیہ کی گئی ہے۔گویا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قرآن پڑھتے رہو اور جو امور اس سے مستنبط ہوں اور جن کی طرف یہ رہنمائی کرے اُن ( پر عمل ) کو دکھی کے ساتھ لازم ٹھہر الو اور جب تم اختلاف میں پڑو تو اُس سے اُٹھ جاؤ۔یعنی جب تمہیں کوئی ایسا شبہ پیش آئے جس سے فرقہ بندی کی طرف جانے والا تنازع کھڑا ہو تا ہو تو وہاں سے اُٹھ جاؤ۔یعنی اس شبہ کو چھوڑ دو جو تفرقہ کی دعوت دینے والا ہے اور اس محکم امر کی طرف رجوع کرو جو اُلفت کو فروغ دینے کا باعث ہے اور اختلاف کرنے سے اُٹھ جاؤ۔التوضيح لشرح الجامع الصحیح لابن الملقن، جزء ۲۴ صفحه ۱۷۶، ۱۷۷) باب ۲۷ نَهْيُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى التَّحْرِيمِ إِلَّا مَا تُعْرَفُ إِبَاحَتُهُ ان چیزوں کے سوا جن کا جائز ہونا معلوم ہو کسی اور چیز کو حرام قرار دینے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منع فرمانا وَكَذَلِكَ أَمْرُهُ نَحْوَ قَوْلِهِ حِينَ أَحَلُّوا اور ایسا ہی آپ کا کسی بات کے کرنے کا حکم دینا