صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 655
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۵۵ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حضرت خلیفۃ المسیح الثالث فرماتے ہیں: پیدا "جو شخص مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرتا ہے وہ اس کے ید ا کر وہ بندوں سے ایسے اختلاف نہیں رکھتا جو اُن کے لئے مضرت کا باعث اور قوم و ملک کے اتحاد یک جہتی کے لئے نقصان دہ اور انتشار کا موجب ہوں۔وہ ایسے اختلافات کو مٹادیتا ہے کیونکہ اعتصام باللہ کے نتیجہ میں تفرقہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ اعتصام کا لازمی نتیجہ ہے۔اب جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آگیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور اس کی صفات حسنہ کی معرفت حاصل کر لی وہ اس کی مخلوق سے نفرت کے ساتھ کیسے پیش آسکتا ہے یا لوگوں کے لئے شفقت اور ایثار کے جذبات کیسے نہیں رکھ سکتا ؟ غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مومنو! تمہارے اندر تفرقہ نہیں ہونا چاہیئے تاہم ایک تفرقہ تو وہ ہے جو فطرتی ہے وہ تو ہونا چاہیئے۔اس قسم کے تفرقہ سے میری مراد فطرتی اختلاف کا پایا جانا ہے۔یہ اختلاف تو انفرادیت کو اُجاگر کرنے والا ہے۔مثلاً ایک باپ کے بچے ایک قسم کی فطرت، ایک قسم کے اخلاق، ایک قسم کی ذہنیت اور ایک جیسا حافظہ لے کر پیدا نہیں ہوتے حتی کہ ان کی شکلوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے لیکن یہاں وہ اختلاف مراد ہے جو بنی نوع انسان کے لئے رحمت کا موجب تھا جیسا کہ آنحضرت صلی ا ولم نے فرمایا ہے کہ میری امت کا اختلاف ان کے لئے رحمت کا موجب ہو گا مگر شیطان آتا ہے اور اس اختلاف کو اس کے لئے رحمت کی بجائے زحمت اور ہلاکت کا موجب بنانے کی کوشش کرتا ہے۔اس اختلاف سے جو انسان کے لئے رحمت کی بجائے ہلاکت اور تباہی کا باعث ہو اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے کیونکہ اعتصام کے بعد یعنی جبکہ خدا کو پہچان لیا، اس کے جلووں میں تنوع کی جھلک کا مشاہدہ کر لیا جب اس کی عظمت اور جلال کے نتیجہ میں اس کا خوف دل میں پیدا ہو گیا اور جب اس کی صفات حسنہ نے دل میں اس کے لئے انتہائی محبت کا سمندر موجزن کر دیا تو اس کی مخلوق کے ساتھ انسان کی شفقت اور پیار خود بخود قائم ہو جانا چاہیئے اور قائم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اعتصام باللہ کا طبعی فطرتی نتیجہ ہے۔اس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ وہ اختلاف جو تفرقے اور انتشار کا باعث ہے وہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ تقویٰ کا