صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 652
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۵۲ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة نکالتے ہیں کہ ان آیات سے یہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم موجودہ توراۃ وانجیل کو انسانی دستبرد سے پاک قرار دیتا ہے حالانکہ یہ کہنا کہ یہ کلام پہلے کلام کا مصدق ہے صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ اب تک محفوظ بھی ہے ایک ایسا نتیجہ ہے جو الفاظ سے زائد ہے اور زائد نتیجہ نکالنا درست نہیں ہوتا۔ قرآن کریم توراۃ اور انجیل کی تعریف کے حوالہ جات سے بھرا ہوا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اس پر ایک زبر دست شاہد ہے۔ اگر واقعہ میں ان آیات کا وہ مطلب ہوتا جو یہ لوگ بتاتے ہیں تو اس وقت کے مسیحی اور یہودی اس پر اعتراض کرتے لیکن ایسا اعتراض ان کی طرف سے بالکل ثابت نہیں ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ یہود کی کتب میں جو باتیں ہیں ان کی نہ تصدیق کرونہ تکذیب کرو۔ اگر ان کتب کو غیر محرف سمجھا جاتا تو ان کی تصدیق سے کیوں روکا جاتا۔ باقی رہا یہ کہ قرآن کریم نے ان کتب کا حوالہ دیا ہے سو یہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وہ کتب محرف نہیں ہیں۔ سب دنیا تاریخی کتب کا حوالہ دیتی ہے اور کوئی عقلمند کسی تاریخی کتاب کو شروع سے آخر تک صحیح نہیں سمجھتا۔ حوالہ سے مراد صرف اس خاص واقعہ کی تصدیق ہوتی ہے نہ کہ سب کتاب کی۔“ (تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ یونس، آیت وَمَا كَانَ هُذَا الْقُرْآنُ أَنْ يُفْتَرَى مِنْ دُونِ اللهِ ، جلد ۳ صفحه ۷۷،۷۶) باب ٢٦: كَرَاهِيَةُ الْخِلَافِ اختلاف کو نا پسند کرنا ٧٣٦٤ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ۷۳۶۴: اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہ عبدالرحمن عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي عَنْ سَلَّامٍ بن مہدی نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے سلام بن ابی بْنِ أَبِي مُطِيعِ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ مطبع سے، سلام نے ابو عمران جونی سے، جونی نے عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِي قَالَ حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی سے روایت کی۔ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: جب تک اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا اخْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ تمہارے دل مانوس ہوں قرآن پڑھتے رہو، جب صا الله