صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 651
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۵۱ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله پوچھتے ہو حالانکہ تمہاری وہ کتاب جو رسول اللہ صلی الی یوم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ پر نازل کی گئی قریب تر زمانے کی ہے۔ تم اس کو يُشَبْ وَقَدْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ خالص پڑھتے ہو جس میں کچھ نہیں ملایا گیا اور حالانکہ بَدَّلُوا كِتَابَ اللهِ وَغَيَّرُوهُ وَكَتَبُوا اللہ نے تمہیں بتایا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتاب کو بدل ڈالا ہے اور اس کو کچھ اور کا اور کر دیا ہے اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک اور کتاب لکھی اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا، لَا يَنْهَاكُمْ ہے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تا کہ وہ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مَّسْأَلَتِهِمْ لَا اس ذریعہ سے تھوڑا سامول کمالیں۔ جو علم تمہارے وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا يَسْأَلُكُمْ عَنِ پاس آیا ہے کیا یہ تمہیں ان سے پوچھنے سے نہیں بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ وَقَالُوا هُوَ مِنْ عِنْدِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ۔ روکتا ؟ اللہ کی قسم ہم نے ان میں سے کبھی کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ وہ تم سے اس کتاب کے متعلق أطرافه: ٢٦٨٥، ٧٥٢٢، ٧٥٢٣- پوچھتا ہو جو تم پر نازل کی گئی۔ تشريح : قَوْلُ النَّبِي لَا تَسْأَلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: اہل کتاب سے کسی بات کے متعلق بھی نہ پوچھو۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۴۱ قرآن کریم کا یہ طریق ہے کہ بجائے پہلوں کو پچھلوں کا مصدق قرار دینے کے پچھلوں کو پہلوں کا مصدق قرار دیتا ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح، حضرت یحی و غیر ہم انبیاء کی نسبت اسی رنگ میں اس نے ذکر کیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گو پہلوں کی پیشگوئیاں پیچھے آنے والوں کی نسبت ہوتی ہیں مگر بعد میں آنے والے انبیاء ان پیشگوئیوں کو پورا کر کے پہلے انبیاء کی صداقت پر مہر لگاتے ہیں۔ اس حقیقت کے بیان کرنے کا بہترین طریق وہی ہے جو قرآن کریم نے اختیار کیا ہے کیونکہ یہ کہنا کہ اس نبی کے یا اس کلام کے پہلے انبیاء مصدق ہیں اس قدر مؤثر نہیں ہو سکتا جس قدر یہ کہنا کہ اس کلام کے ذریعہ سے ہی پہلے نبی کی تصدیق ہوتی ہے۔ ورنہ اسے جھوٹ ماننا پڑتا ہے۔ اس دلیل کے آگے پہلے انبیاء کے اتباع کو فوراً د بنا پڑتا ہے۔ مسیحی مشنریوں نے اس قسم کی آیات سے ایک انوکھا استدلال کیا ہے اور وہ یہ نتیجہ