صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 43
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۴۳ ۸۸ - کتاب استتابة المرتدين۔۔۔يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ مُرُوقَ السَّهْمِ قرآن (ایسے طور) پر پڑھیں گے کہ وہ اُن کی مِنَ الرَّمِيَّةِ۔ہنسلیوں کے نیچے نہیں اترے گا۔وہ اسلام سے ایسے نکلیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہو جاتا ہے۔تشريح : مَنْ تَرَكَ قِتَالَ الْخَوَارِجِ لِلتَّأْلْفِ وَلَئَلَّا يَنْفِرَ النَّاسُ عَنْهُ: جس نے تالیف قلب کی وجہ سے اور نیز اس لئے کہ لوگ اس سے نفرت نہ کریں خارجیوں سے لڑنا چھوڑ دیا۔امام بخاری عناوین ابواب سے شریعت اسلامیہ اور اس کے نفاذ کی عملی شکل کے وہ پہلو نمایاں کرتے ہیں جن سے لوگ غلط استدلال کر کے ایسے نتائج اخذ کر لیتے ہیں جو شریعت کی روح کے خلاف اور شارع علیہ السلام کے اُسوہ کے منافی ہیں۔خوارج کے قتل کی روایات سے بادی النظر میں یہ مفہوم نکل سکتا ہے کہ اسلام کلمہ گو، نمازیں پڑھنے والے، خوش الحانی سے تلاوت قرآن کریم کرنے والے لوگوں کے بعض بدعتی افعال کی وجہ سے اور شریعت کے ظاہر پر عمل کے باوجو د شریعت کی روح اور مغز سے خالی ہونے کی وجہ سے ان کے قتل کا فتویٰ دیتا ہے۔یہ ہرگز درست نہیں اور نہ ہی اسلامی شریعت اور شارع علیہ السلام کا یہ طریق اور اُسوہ ہے بلکہ آپ نے ایسے لوگوں کے قتل سے واضح طور پر منع فرمایا ہے جیسا کہ زیر باب روایت کے یہ الفاظ ہیں : قَالَ عُمر بن الخطابِ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنْقَهُ قَالَ دَعْهُ - حضرت عمر بن خطاب نے کہا: مجھے اجازت دیں کہ اس کی گردن اڑا دوں۔آپ نے فرمایا: اسے رہنے دو۔پس ان کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنا اور نا انصافی کا الزام لگانا اُن کے قتل کی وجہ نہیں بنا بلکہ حضرت علی کے دور میں اس قماش کے لوگ عملا اسلام کے خلاف بغاوت اور جنگ کرنے لگے تو اُن کی جارحانہ جنگوں کو مدافعانہ جنگ سے روکا گیا۔بَاب ۸: قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلُ فِئَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: وہ گھڑی اُس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ دو ایسے گروہ آپس میں نہ لڑیں جن کا دعویٰ ایک ہی ہو گا ٦٩٣٥: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۶۹۳۵ علی بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا أَبُو الزِنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ابو زناد أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ نے ہم سے بیان کیا۔ابو زناد نے اعرج سے ، اعرج رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلُ فِئَتَانِ اُنہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: