صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 638
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۳۸ ۹۶ - کتاب الاعتصام بالكتاب والسنة کرنے کی کوشش کرو اور جو پہلو اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ پسندیدہ لگے اور حق اور سچ کے زیادہ مشابہ نظر آئے اُسے اختیار کرو۔ مدعی کو ثبوت پیش کرنے کے لئے مناسب تاریخ اور وقت دو تا کہ وہ اپنے دعوی کے حق میں ثبوت اکٹھے کر سکے۔ اگر مقررہ تاریخ پر وہ ثبوت اور بینہ پیش کر سکے فہا، ورنہ اس کے خلاف فیصلہ سنا دو۔ یہ طریق اندھے پن کو دور کرنے والا ہے اور بے خبری کے اندھیرے کو روشن کرنے والا یعنی اس سے اُلجھا ہوا معاملہ سلجھ جائے گا اور ہر قسم کے عذر و اعتراض کا موثر جواب ہو گا۔ سب مسلمان برابر شاہد عادل ہیں۔ ایک دوسرے کے حق میں اور ایک دوسرے کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں اور ان گواہیوں کے مطابق فیصلہ ہو گا سوائے اس کے کہ کسی کو حد کی سزا مل چکی ہو یا اُس کی جھوٹی شہادت دینے کا تجربہ ہو چکا ہو یا قرابت کے دعویٰ میں اس پر کوئی تہمت لگی ہو یا اس کا اصل رشتہ کسی اور شخص یا قوم سے ہو اور دعوی کسی اور کے رشتے دار ہونے کا کرے یعنی حسب و نسب کے دعوی میں جھوٹا ہو۔ ایسے خفیف الحرکت شخص کے سچا ہونے پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ باقی سب مسلمان گواہ بننے کے اہل ہونے کے لحاظ سے برابر ہیں کیونکہ کسی کے دل میں کیا ہے، اصل راز اور سچائی کیا ہے ، اسے اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ اگر کوئی غلط بیانی کرے گا تو خدا اس کو سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بینات اور گواہیوں کے ذریعہ معاملات نبٹانے کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی یاد رکھو کہ تنگ پڑنے سے بچو۔ جلد گھبرا جانے اور لوگوں سے تکلیف اور دکھ محسوس کرنے اور فریقین مقدمہ سے تنفر اور اجنبی پن سے کبھی پیش نہ آؤ۔ حق اور سچ معلوم کرنے کے مواقع میں اس طرز عمل سے بچنا اور حق شناسی کی صحیح کوشش کرنا۔ اللہ اس کا ضرور اجر دے گا اور ایسے شخص کو نیک شہرت بخشے گا۔ جو شخص اللہ کی خاطر خلوص نیت اختیار کرے گا کو اللہ اسے لوگوں کے شر سے بچائے گا اور جو شخص محض بناوٹ اور تصنع سے اپنے آپ و واچھا ظاہر کرنے کی کوشش کرے گا اللہ تعالیٰ کبھی نہ کبھی اُس کا راز فاش کر دے گا اور اُس کی رسوائی کے سامان پیدا کر دے گا۔ (سنن دار قطنی، کتاب الاقضیہ والاحکام ) ( خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۵، دسمبر ۲۰۰۳، جلد اول صفحه ۵۲۸،۵۲۷)