صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 639 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 639

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۳۹ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” مومنوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس بحث میں خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو منظور کرے اور اگر نہیں کرے گا تو وہ اس آیت کے نیچے آئے گا جو قرآن شریف کی جز و پانچ سورۃ النساء میں ہے اور وہ یہ ہے: فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحِكَمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء:۶۶) یعنی اے پیغمبر تمہارے ہی پروردگار کی قسم ہے کہ جب تک یہ لوگ اپنے باہمی جھگڑے تم ہی سے فیصلہ نہ کر ائیں اور صرف فیصلہ ہی نہیں بلکہ جو کچھ تم فیصلہ کر دو اس سے کسی طرح دلگیر بھی نہ ہوں بلکہ کمال اطاعت اور دلی رضامندی اور شرح صدر سے اس کو قبول کر لیں تب تک یہ لوگ ایمان سے بے بہرہ ہیں۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۳۲۰) بَاب ۲۱: أَجْرُ الْحَاكِمِ إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ أَوْ أَخْطَاً حاکم کا ثواب اگر وہ پوری پوری کوشش کرے پھر صحیح فیصلہ کو پہنچ جائے یا غلطی کرے ٧٣٥٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ :۷۳۵۲: عبد اللہ بن یزید مقری مکی نے ہم سے الْمُقْرِئُ الْمَكِّيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ بیان کیا کہ حیوہ بن شریح نے ہمیں بتایا۔یزید بن حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ عبد الله بن ہاد نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے محمد مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بن ابراہیم بن حارث سے، انہوں نے بسر بن سعید بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى سے، نہسر نے ابو یں سے جو حضرت عمرو بن العاص عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ کے غلام تھے ، ابو قیس نے حضرت عمرو بن العاص سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی ال نیم سے أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سنا۔آپ فرماتے ہیں: جب حاکم فیصلہ کرے اور وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ وہ پوری طرح کوشش کرے پھر صحیح فیصلہ کو پہنچ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا جاوے تو اس کو دو ثواب ہوں گے اور جب وہ فیصلہ حَكَمَ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ أَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ کرے اور پوری پوری کوشش کرے پھر غلطی کر بیٹھے تو اس کو ایک ثواب ہو گا۔