صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 637 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 637

صحیح البخاری جلد ۱۶ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ۔۶۳۷ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة کو خرید و اور اسی طرح ہر وہ چیز جو تولی جاتی ہے۔أطراف الحدیث ۷۳۵۰ ۲۲۰۱، ٢٣٠۲، ٤٢٤٤، ٤٢٤٦۔أطراف الحدیث (۷۳۵۱ ۲۲۰۲، ٢٣٠۳، ٤٢٤٥ ٤٢٤٧۔تشریح: إِذَا اجْتَهَدَ الْعَامِلُ أَوِ الْحَاكِمُ فَأَخْطَأَ خِلَافَ الرَّسُولِ مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ فَحُكْمُهُ مَردُود: اگر قاضی یا حاکم اجتہاد کرے اور علم نہ ہونے کی وجہ سے خلاف رسول (فیصلہ ) کرے تو اس کا فیصلہ رو کیا جائے گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: حضرت عمر کا ایک خط جو انہوں نے ابو موسیٰ اشعری کو لکھا تھا۔اس کا مضمون یہ تھا: قضا ایک محکم اور پختہ دینی فریضہ ہے اور واجب الاتباع سنت ہے۔جب کوئی مقدمہ یا کیس آپ کے سامنے پیش ہو تو معاملے کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو کیونکہ صرف حق بات کہنا اور اس کے نفاذ کی کوشش نہ کرنا بے فائدہ ہے۔کیا بلحاظ مجلس کیا بلحاظ توجہ اور کیا بلحاظ عدل و انصاف، سب لوگوں کے درمیان مساوات قائم رکھو۔سب سے ایک جیسا سلوک کرو تا کہ کوئی با اثر تم سے ظلم کروانے کی اُمید نہ رکھے اور کسی کمزور کو تیرے ظلم وجور کا ڈر اور اندیشہ نہ ہو اور ثبوت پیش کرنا مدعی کا فرض ہے اور قسم منکر مد عاعلیہ پر آئے گی۔مسلمانوں کے درمیان مصالحت کروانے کی کوشش کرنا اچھی بات ہے۔ہاں ایسی صلح کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے جس کی وجہ سے حرام حلال بن رہا ہو اور حلال حرام یعنی خلاف شریعت صلح جائز نہ ہوگی۔اگر تم کوئی فیصلہ کرو اور پھر غور وفکر کے بعد اللہ کی ہدایت سے دیکھو کہ فیصلے میں غلطی ہوگئی ہے، صحیح فیصلہ اور طرح ہے تو اپنا کل کا فیصلہ واپس لینے اور اسے منسوخ کرنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ یا شرم محسوس نہیں کرنی چاہئیے کیونکہ حق اور عدل ایک عظیم صداقت ہے اور حق اور سچ کو کوئی چیز باطل اور غلط نہیں بنا سکتی ہے۔اس لئے حق کی طرف لوٹ جانا اور حق کو تسلیم کر لیتا باطل میں پھنسے رہنے اور غلط بات پر مصر رہنے سے کہیں بہتر ہے۔جو بات تیرے دل میں کھٹکے اور قرآن و سنت میں اس کے بارہ میں کوئی وضاحت نہ ہو تو اس کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرو اور اس کی مثالیں تلاش کرو۔اس سے ملتی جلتی صورتوں پر غور کرو پھر اُس پر قیاس کرتے ہوئے کوئی فیصلہ