صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 635
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۳۵ ٩٦ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة مفہوم ہے کہ وہ اسی صورت میں بہترین اُمت ہوگی کہ جب لوگوں کی فی الواقعہ خیر خواہ اور راہنما بنے گی اور اسی جہت سے قیامت کے روز ان کی شہادت انبیاء کے لئے بھی قابل قدر اور عند اللہ مقبول ہوگی۔“ ترجمه و شرح صحیح البخاری، کتاب التفسير ، تفسير سورة البقرة، باب ۱۳، جلد ۱۰ صفحه ۴۰،۳۹) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”شریعت اسلامی نے اُمت محمدیہ کو ایک ایسی اُمت قرار دے کر جو ہر کام میں اعتدال سے کام لیتی ہے گناہ کے تمام دروازوں کو بند کر دیا ہے اور اُمَّةً وَسَطًا میں اسلام کی اسی وسطی تعلیم کی طرف اشارہ ہے جس میں وہ دوسرے تمام مذاہب سے امتیازی شان رکھتا ہے اور اسی ایک دلیل سے اس کی فضیلت ثابت ہو جاتی ہے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا ہم نے اس لئے کیا ہے لِتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَی النکیں تا کہ تم دوسرے مذاہب اور دوسری اقوام کے لئے ایک گواہ کی طرح رہو۔یعنی جس طرح گواہ کی گواہی سے ثابت ہوتا ہے کہ حق کیا ہے اور کس کا ہے اسی طرح تم میں سے جو لوگ قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے اس کے نیک اثرات کو اپنے اندر پیدا کریں گے وہ دوسری اقوام کے لئے جو ابھی تک قرآن کریم کی صداقت سے لذت آشنا نہیں بطور ایک شاہد کے ہوں گے۔یعنی زبان اور عمل دونوں سے وہ اس بات کا اعلان کریں گے کہ انہوں نے اس کے دعاوی کو بیچ پایا اور لوگ اُن کی پاکیزہ زندگی اور آسمانی نصرت کو دیکھ کر سمجھ لیں گے کہ سچار استہ وہی ہے جس پر یہ لوگ چلتے ہیں اور پھر آخر میں بتایا کہ جس طرح ہم نے ان مسلمانوں کو جو قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرتے ہیں دوسری اقوام کے لئے شاہد بنایا ہے اسی طرح ہم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جماعت کے لئے اسلام کی سچائی کا شاہد بنایا ہے۔یعنی ان کے دل میں آپ کے معجزات اور نصرت الہی کو دیکھ کر اسلام کی صداقت کامل طور پر گھر کر جاتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، تفسير سورة البقرة، آيت وكذلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا، جلد ۲ صفحه ۲۲۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” قرآن شریف کی تعلیم جس پہلو اور جس باب میں دیکھو اپنے اندرحکیمانہ پہلو رکھتی