صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 634 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 634

صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۳۴ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة ضروری ہے کہ آنکھوں دیکھی بات کہی جائے۔سماعی شہادت (کانوں سنی بات) کی عدالت میں اتنی وقعت نہیں جتنی عینی شہادت کی ہوتی ہے۔رسول اکرم نئی کم شہید ہیں اس جہت سے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلی واضح طور پر ہوئی۔ان کو صفات باری تعالٰی کی ایک ایک صفت کا بار بار مشاہدہ ہوا اور آپ کے ذریعہ سے صحابہ کرام کو ان صفات کا مشاہدہ ہوا۔اس طرح آپ نے تبلیغ کا فرض ادا کیا اور حجتہ الوداع میں اور اس کے بعد بوقت نزع آپ نے لوگوں کو اور اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرایا کہ میں نے تبلیغ کا فرض ادا کر دیا۔(دیکھئے کتاب الحج باب ۱۳۲، روایت نمبر ۱۷۴۱) یہ اعلیٰ درجہ کا مقام شہادت دیگر انبیاء اور ان کی امتوں کو حاصل نہیں ہوا۔شدت تکذیب اور حق تبلیغ سے انکار کا ذکر سورۃ الملک کی آیات ۸ تا ۱۱ میں ہے اور آنحضرت صلی ایم کے ذریعہ اتمام حجت کا ذکر سورۃ المائدۃ میں ہے، فرماتا ہے: یاهلَ الْكِتَبِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لكُمْ عَلى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بشير ونَذِيرٌ وَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُه (المائدة: ۲۰) یعنی اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے۔وہ رسولوں کے انقطاع کے بعد تم سے (ہماری باتیں) بیان کرتا ہے تاکہ تم (یہ) نہ کہو کہ ہمارے پاس نہ کوئی بشارت دینے والا آیا ہے اور نہ ڈرانے والا۔سو تمہارے پاس ایک بشارت دینے والا اور ڈرانے والا آگیا ہے اور اللہ ہر ایک بات پر پورا ( پورا) قادر ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ دنیا میں نبی اکرم صلی نام کے ذریعہ اتمام حجت کی گئی ہے اور قیامت کے دن بھی اس اتمام حجت کا ظہور ہو گا جب کوئی قوم اپنے نبی کی تبلیغ سے انکار کرے گی۔قرآنِ مجید میں انبیاء علیہم السلام اور ان کی تبلیغ کا ذکر محفوظ کیا گیا ہے اور رسول اکرم صلی ال تیم خاتم النبیین کے لقب سے سرفراز کئے گئے ہیں تا انبیاء اور اُن کی قوموں کے لئے بطور شاہد عادل بنیں اور آپ کے اس مبارک لقب کی برکت سے آپ کی اُمت بھی شاہد عادل قرار دی گئی ہے اور اس اعتبار سے اُمت محمدیہ کا فرض منصبی متعین ہوتا ہے کہ وہ تمام قوموں میں تبلیغ کرے اور ان کی ہدایت کا موجب ہو۔آیت كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: ااا) کا بھی یہی