صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 633
صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۳۳ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً كَا: تمہارے کون گواہ ہیں؟ وہ کہیں گے : محمد (صلی انی) وَسَطًا (البقرة: ١٤٤) قَالَ عَدْلًا لِتَكُونُوا اور اُن کی اُمت، پھر تمہیں لایا جائے گا اور تم شہادت شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ وَ يَكُونَ الرَّسُولُ دو گے۔پھر رسول اللہ صلی ا ہم نے یہ آیت پڑھی: علَيْكُمْ شَهِيدًا (البقرة: ١٤٤ )۔اور اسی طرح ہم نے تمہیں اعلیٰ درجہ کی اُمت بنایا ہے تاکہ تم (دوسرے) لوگوں کے نگران بنو اور یہ رسول تم پر نگران ہو۔(وسطا کے معنی بیان کرتے ہوئے) کہا: یعنی عادل۔وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَوْنٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ اور جعفر بن عون سے مروی ہے کہ اعمش نے بھی عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ہم سے یہی بیان کیا۔انہوں نے ابو صالح سے، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا ابو صالح نے حضرت ابوسعید خدری سے، حضرت ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔أطرافه: ٣٣٣٩، ٤٤٨٧۔• ريح : وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا: اور اس طرح ہم نے تمہیں اعلیٰ درجہ کی امت بنایا ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت نوح علیہ السلام کی اُمت نے ان کی تکذیب کی۔بہت کم ایمان لائے۔جیسا کہ دوسری جگہ فرماتا ہے: و اوحی الی نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلَّا مَنْ قَدْ أَمَنَ فَلَا تَبْتَبِسُ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (ھود:۳۷) اور نوح کو وحی کی گئی کہ تیری قوم ہرگز نہیں مانے گی سوا اُن کے جو مان چکے ہیں۔سو اپنی جان جوکھوں میں نہ ڈال بوجہ ان کرتوتوں کے جو وہ کر رہے ہیں۔ان کی یہی قوم روزِ قیامت بوقت محاسبہ انکار کرے گی کہ اسے تبلیغ نہیں کی گئی تو حضرت نوح سے شہادت طلب کی جائے گی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کو بطور گواہ پیش کریں گے اور یہ شہادت دیں گے کہ انہوں نے فی الواقعہ تبلیغ کی تھی۔اسی شہادت کا ذکر آیت لِتَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ میں کیا گیا ہے اور آیت وَ كَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا میں لفظ الوسط کے معنی ہیں العدل، یعنی اول درجہ کے عادل، مستقیم جو صحیح راستے پر قائم ہوں۔اُمَّةً وَسَطًا سے مراد اعلیٰ درجے کی اُمت ہے۔صحیح شہادت کے لئے