صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 631
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۳۱ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أُرِيدُ ثُمَّ گے۔یہودیوں نے کہا: ابوالقاسم ! آپ نے پہنچادیا قَالَهَا التَّالِقَةَ فَقَالَ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ پھر رسول اللہ صلی علی کرم نے ان سے فرمایا: میں یہی چاہتا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ ہوں۔پھر آپ نے تیسری بار یہ ڈہر ایا اور فرمایا: تم هَذِهِ الْأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ جان لو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلَّا فَاعْلَمُوا أَنَّمَا الْأَرْضُ پس میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس ملک سے نکالوں اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی جائیداد کے بدلے لِلَّهِ وَرَسُولِهِ۔أطرافه: ٣١٦٧، ٦٩٤٤- میں کوئی قیمت چاہتا ہو تو وہ اسے بیچ دے ورنہ جان لو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔تشریح : وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلا: انسان سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔مکمل آیت یہ ہے : وَلَقَد صَرَّفْنَا فِي هَذَا الْقُرْآنِ لِلنَّاسِ مِن كُلِّ مَثَلٍ وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جدلان (الکھف: ۵۴) اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے یقیناً ہر ایک (ضروری) بات کو مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے اور ( ایسا کیوں نہ کرتے کہ ) انسان سب سے بڑھ کر بحث کرنے والا ہے۔(ترجمہ از تفسیر صغیر) امام بخاری گزیر باب دو روایتیں لائے ہیں۔پہلی روایت (نمبر ۷۳۴۷) حضرت علی کے متعلق ہے اور دوسری روایت (نمبر ۷۳۴۸) یہودیوں کے متعلق ہے۔حضرت علی کے جواب پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس آیت کو پڑھتے ہوئے جس درد کا اظہار ہے اُس کا اطلاق محض حضرت علی پر نہیں ہے بلکہ انسان کے مجموعی رویے کا اظہار ہے۔سیاق کلام کے لحاظ سے بھی قرآن کریم میں اس آیت کا مفہوم اپنے بیان اور وسعت معنی کے ساتھ عام انسانی رویوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔اس لئے اس آیت اور واقعہ کو حضرت علی نیک محدود کرنا قرآن کریم کے اسلوب کے بھی منافی ہے اور اس آیت کے مضمون کی وسعت اور ہمہ جہتی کے بھی خلاف ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وو اكثر شَيْءٍ جَدَلًا کے دو معنی ہیں۔(۱) اكثر شيء يتاتى منه الجدل یعنی سمجھانے کی جو تدبیر بھی کی جائے اُس کے نتیجہ میں اس کی طرف سے جھگڑے کا پہلو ہی پیدا کر لیا جاتا ہے۔اطمینان حاصل کرنے کی وہ کوشش نہیں کرتا۔(۲) جدلی الانسانِ اكثر من كُلِ مُجَادِل یعنی انسان سب مخلوق کی نسبت زیادہ جھگڑا کرتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ اسے تو ہم نے عقل اس لئے دی تھی کہ روحانی ترقیات کرے اور خدا تعالیٰ کا عرفان حاصل کرے مگر وہ اس قوت کو جو اسے دوسرے حیوانوں سے