صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 630 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 630

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۳۰ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں۔جب ہمیں اُٹھانا چاہتا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے تو ہمیں اُٹھا دیتا ہے۔جب حضرت علی نے آپ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهُ ذَلِكَ وَلَمْ يَرْجِعْ سے یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف إِلَيْهِ شَيْئًا ثُمَّ سَمِعَهُ وَهُوَ مُدْبِرٌ يَضْرِبُ لے گئے اور آپ نے اُن کو کچھ جواب نہ دیا۔فَخِذَهُ وَهُوَ يَقُولُ: وَكَانَ الْإِنْسَانُ حضرت علی نے آپ کو جب آپ واپس پلٹے ،سنا۔اكثرَ شَيْءٍ جَدَلًا ( الكهف : ٥٥) قَالَ آپ اپنی ران پر ہاتھ مارتے ہوئے فرما رہے تھے کہ انسان اکثر باتوں میں جھگڑا کرتا ہے۔ابو عبد اللہ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ مَا أَتَاكَ لَيْلًا فَهُوَ (امام بخاری) نے کہا: جو رات کو تمہارے پاس طَارِقٌ وَيُقَالُ الطَّارِقُ النَّجْمُ وَالثَّاقِبُ آئے اس کو طارق کہتے ہیں اور ستارے کو طارق الْمُضِيءُ يُقَالُ أَثْقِبْ نَارَكَ لِلْمُوقِدِ کہتے ہیں اور ثاقب کے معنی ہیں روشن۔آگ جلانے والے کو کہتے ہیں: أَثْقِبْ نَارَك اپنی آگ جلا۔أطرافه: ١١٢٧، ٤٧٢٤، ٧٤٦٥۔٧٣٤٨: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۷۳۴۸: قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید سے، سعید نے قَالَ بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ خَرَجَ اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت ابوہریرہ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: اس اثنا میں کہ ہم انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى مسجد میں تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے اور فرمایا: یہودیوں کے پاس چلو۔ہم آپ کے ساتھ جِئْنَا بَيْتَ الْمِدْرَاسِ فَقَامَ النَّبِيُّ باہر گئے اور ان کے تورات پڑھانے کے مدرسہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَاهُمْ فَقَالَ میں پہنچے۔نبی صلی ا کر وہاں کھڑے ہو گئے اور اُن کو يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا پکار کر کہا: اے یہودیوں کی جماعت ! اسلام قبول کر بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ قَالَ فَقَالَ لَهُمْ لو تم سلامتی میں رہو گے۔انہوں نے کہا: ابوالقاسم ! رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ آپ نے پیغام پہنچا دیا ہے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ تھے رسول اللہ صلی ایم نے ان سے فرمایا: میں یہی يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ چاہتا ہوں تم اسلام قبول کر لو ، تم سلامتی میں رہو