صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 627
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۲۷ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة میں زیادہ دوں گا۔یہ ان کے جھگڑے کی مثال ہے مگر اب لوگوں کی یہ حالت ہے کہ اگر دس روپیہ کی چیز ہو تو ہیں روپیہ کی بتائیں گے اور خریدار پانچ ہی کی بتائے گا اور دونوں جھوٹ بولیں گے۔پس اگر اسلام پر عمل ہو تو اتفاق و اتحاد کی بنیادیں مضبوط ہو سکتی ہیں اس لئے فرمایا کہ پہلے تم لوگوں میں کتنا تفرقہ تھا لیکن پھر اسلام کے ذریعہ تم میں اتفاق و اتحاد پیدا کر دیا، تم لڑتے جھگڑتے تھے تمہیں لڑائی سے بچایا، تم ذلیل و حقیر تھے تمہیں عزت دی۔پس اگر ایسی بابرکت چیز کی قدر نہ کرو گے تو کتنے افسوس کی بات ہوگی۔(خطبات محمود، خطبہ جمعہ فرموده ۲۳ مئی ۱۹۱۹ء، جلد ۶ صفحه ۲۲۳،۲۲۲) وَمَا أَجمع عَلَيْهِ الحَرَمَانِ مَكَةُ وَالمَدِينَةُ : علامہ ابن حجر نے مہلب ” کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ اس باب میں مدینہ کی دوسرے شہروں پر فضیلت اور خصوصیت کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہے کہ یہ خبث اور ناپاکی کو باہر نکال دیتا ہے اور یہ بات اہل مدینہ کے اجماع کے حجت ہونے پر مترتب ہے۔علامہ ابن عبد البر اس بارہ میں کہتے ہیں کہ بلاشبہ حدیث فضیلت مدینہ پر دلالت کرتی ہے لیکن مدینہ کا یہ وصف تمام زمانوں پر حاوی ہونے کی عمومیت نہیں رکھتا بلکہ صرف نبی صلی اللہ نام کے زمانہ سے مخصوص ہے کیونکہ (اُس دور میں) آپ کے ساتھ رہنے کی خواہش کی وجہ سے کوئی بھی اس میں سے نہیں نکلتا تھا مگر وہی جس میں خیر نہ ہوتی تھی۔قاضی عیاض نے بھی یہ بات بیان کی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خیار صحابہ کی ایک جماعت مدینہ سے ہجرت کر گئی تھی اور اس سے باہر ہی ان کی وفات ہوئی جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت ابو موسیٰ (اشعری، حضرت علی، حضرت ابوذر، حضرت عمار، حضرت حذیفہ ، حضرت عبادہ بن صامت، حضرت ابو عبیدہ ، حضرت معاذ اور حضرت ابو در داغ وغیرہ ہیں۔پس یہ دلالت کرتا ہے کہ مدینہ کا یہ وصف آنحضور ملی او نیم کے زمانہ سے ہی خاص ہے۔(فتح الباری جزء ۱۳ صفحہ ۳۷۴) علامہ ابن بطال اس باب کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جو لوگ اہل مدینہ کے مذہب و مسلک پر ہوں خواہ وہ زمین میں کہیں بھی رہنے والے ہوں اُن کے لیے مدینہ کی برکت میں سے ایک وافر حصہ واجب ہے اور رسول اللہ صلی الیم کی سنت ثابتہ کی اتباع کے نتیجہ میں وہ اس بات کے حقدار ہیں کہ (اپنے) حسنِ عمل کی وجہ سے وہ ان کے علماء اور متبعین میں شمار ہوں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِاِحْسَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (التوبة: ١٠٠) یعنی اور وہ لوگ جنہوں نے حُسنِ عمل کے ساتھ ان (یعنی مہاجرین و انصار) کی پیروی کی اللہ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ اُس سے راضی ہو گئے۔اور (اسی طرح حدیث ہے: المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَب۔یعنی آدمی اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے اور اسی طرح اہل مکہ کے لیے بھی اس (برکت) میں سے ایک حصہ واجب ہے کیونکہ اُن کے پاس تمام فرائض حج کا علم ہے اور وہ (بھی) آنحضور صلی علی ظلم کی نماز اور آپ کے اقوال کے چشم دید گواہ اور عالم ہیں۔لہذا ان کے ย لیے بھی اس برکت سے وافر حصہ اور عمدہ انعام ہے۔(شرح صحیح البخاری لابن بطال، جزء ۱۰ صفحه ۳۷۴)