صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 626 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 626

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۲۶ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة الْحُلَيْفَةِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةَ میں رات کو اُترے ہوئے تھے رو یاد کھائی گئی اور کہا گیا کہ آپ ایک مبارک میدان میں ہیں۔أطرافه: ٤٨٣، ١٥٣٥، ٢٣٣٦- رح۔مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَضَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ : بیصلى اللَّهُ • علیہ وسلم نے اہل علم کے اتفاق کا جو ذکر فرمایا اور اس کے متعلق ترغیب دی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا کہ اللہ کے رسے کو مضبوط پکڑ لو اور اختلاف نہ کرو۔دوسری قومیں ظاہری سامانوں سے اتفاق کر سکتی ہیں مگر اسلام میں اتفاق کا ذریعہ صرف ایک ہی ہے کہ حَبلُ اللہ کو پکڑا جائے اور حَبْلُ اللہ کیا ہے؟ وہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہیں۔قرآن کریم میں ہے اسلام کیا ہے؟ وہ جو انبیاء احکام دیتے ہیں۔پس انبیاء حبل اللہ ہیں۔رسول کریم صلی امام حبل اللہ ہیں اور مسیح موعود حبل اللہ ہیں، قرآن کریم حبل اللہ ہے۔ان کو پکڑے بغیر اتفاق نہیں ہو سکتا۔پس اگر اتفاق ہو سکتا ہے تو اسی طرح کہ اسلام کو مضبوط پکڑا جائے اور اسلام محض نماز روزے کا نام نہیں بلکہ اسلام نام ہے اخلاق کے اُن اصول کا جن پر چل کر اتفاق و آشتی پید اہو اور نا اتفاقی دُور ہو۔اسلام کوئی ٹو ناٹو ٹکا نہیں کہ بس ادھر اسلام کا نام لیا اور اُدھر اتفاق و اتحاد پیدا ہو گیا جیسا کہ عوام جہلاء میں مشہور ہے کہ پیپل کے درخت کے گرد سات چکر کچے دھاگے کے ساتھ لگائے جائیں تو فلاں بات ہو جائے گی بلکہ اسلام ایسے قاعدے اور اصول بتاتا ہے کہ جن پر عمل کرنے سے اتفاق حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے پکڑنے کے یہ معنی ہیں کہ اُن اخلاق و اطوار کو اپنے اندر پیدا کیا جائے جو اسلام نے تعلیم دیئے ہیں اور جو اس طرح اسلام کو پکڑے گا وہ کبھی نا اتفاقی کی بات نہیں کر سکتا۔اس کے لئے صحابہ کی مثال موجود ہے، ان میں جھگڑے ہوتے تھے مگر نا اتفاقی کرنے والے نہیں بلکہ آپس کے اتفاق و اتحاد کو اور مضبوط کرنے والے ہوتے تھے مثلاً جس کا مال ہوتا وہ تو کہتا ہے کہ میر امال تھوڑی قیمت کا ہے لیکن خریدار کہتا ہے نہیں زیادہ قیمت کا ہے۔اس طرح لینے والا کہتا ہے کہ میں کم لوں گا مگر دینے والا کہتا ہے نہیں