صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 617 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 617

صحیح البخاری جلد ۱۶ ۶۱۷ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة آيَةُ الرَّجْمِ۔ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَقَالَ إِنَّ اللهَ بَعَثَ رکھیں گے اور اس کا مطلب بھی ٹھیک بیان کریں مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ گے ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں پہلے ہی وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أُنْزِلَ موقع میں جو مجھے مدینہ میں ملے گا ضرور اس بات کو بیان کروں گا۔ حضرت ابن عباس کہتے تھے: ہم مدینہ آئے تو حضرت عمرؓ نے بیان کیا: اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا اور آپ پر کتاب نازل کی۔ منجملہ اُن احکام کے جو آپ پر نازل کئے گئے رجم کا بھی حکم تھا۔ أطرافه: ٢٤٦٢ ، ۳٤٤٥، ۳۹۲۸، ٤۰۲۱، ٦٨٢٩ ، ٦٨٣٠۔ ٧٣٢٤ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۷۳۲۴: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ مُحَمَّدٍ حماد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ نے محمد بن سیرین) سے روایت کی۔ انہوں نے مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَانٍ فَتَمَخَّطَ فَقَالَ بَحْ کہا: ہم حضرت ابو ہریرہ کے پاس تھے اور انہوں بَحْ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتَمَخَّطُ فِي الْكَتَانِ لَقَدْ نے کستان کے دو گیر والے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَآخِرُ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ تھے۔ انہوں نے اپنے کپڑے سے ناک صاف کیا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى اور کہنے لگے: واہ واہ ابو ہریرہ، وہ کستان کے کپڑے میں ناک صاف کرتا ہے۔ میں نے اپنے تئیں ایسا زمانہ بھی دیکھا ہے کہ جب میں رسول اللہ صلی الہ وسلم کے حُجْرَةِ عَائِشَةَ مَغْشِيًّا عَلَيَّ فَيَجِيءُ المدرسة الْجَائِي فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي وَيُرَى منبر سے حضرت عائشہ کے حجرے تک چلتے ہوئے أَنِّي مَجْنُونٌ وَمَا بِي مِنْ جُنُونٍ مَا بِي بے ہوش ہو کر گر پڑتا تھا تو کوئی آنے والا آتا اور إِلَّا الْجُوعُ۔ ا گیرو۔ ایک قسم کی سرخ مٹی۔ (اعجاز اللغات ، گی) وہ اپنا پاؤں میری گردن پر رکھ دیتا اور وہ سمجھتا کہ میں مجنون ہوں حالانکہ مجھے جنون نہ ہوتا۔ یہ (بے ہوشی) تو صرف بھوک کی وجہ سے ہوتی۔