صحیح بخاری (جلد شانز دھم)

Page 616 of 1028

صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 616

صحیح البخاری جلد ۱۶ ٦١٦ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ عبد الواحد نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہم سے بیان الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ کیا۔ معمر نے زہری سے ، زہری نے عبید اللہ بن حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عبد اللہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: حضرت قَالَ كُنْتُ أُقْرِى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ ابن عباس رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں حضرت عبد الرحمن بن عوف کو قرآن عَوْفٍ فَلَمَّا كَانَ آخِرُ حَجَّةٍ حَجَّهَا پڑھایا کرتا تھا۔ جب وہ آخری حج ہوا جو حضرت عُمَرُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِمِنِّي لَوْ عمرؓ نے کیا تو حضرت عبد الرحمن نے منی میں کہا: اگر شَهِدْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَاهُ رَجُلٌ قَالَ تم امیر المؤمنین کے پاس ہوتے۔ ایک شخص ان إِنَّ فُلَانًا يَقُولُ لَوْ مَاتَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ کے پاس آیا۔ کہنے لگا کہ فلاں شخص کہتا ہے: اگر لَبَايَعْنَا فَلَانًا فَقَالَ عُمَرُ لَأَقُومَنَّ امیرالمؤمنین کا وصال ہو جائے تو ہم فلاں شخص سے الْعَشِيَّةَ فَأُحَدِّرَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ بیعت کریں گے۔ حضرت عمرؓ نے (سن کر) فرمایا: يُرِيدُونَ أَنْ يَعْصِبُوهُمْ قُلْتُ لَا تَفْعَلْ آج شام کو میں لوگوں میں کھڑا ہوں گا اور اُن فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ لوگوں کے متعلق خبر دار کروں گا جو چاہتے ہیں کہ يَغْلِبُونَ عَلَى مَجْلِسِكَ فَأَخَافُ أَنْ لَّا مسلمانوں سے اُن کا حق چھین لیں۔ میں نے کہا: يُنْزِلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا فَيُطِيرُ بِهَا كُلُّ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ حج (اچھے برے) ہر قسم مُطِيرٍ فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ کے لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے۔ آپ کی مجلس میں ایسے دَارَ الْهَجْرَةِ وَدَارَ السُّنَّةِ فَتَخْلُص لوگ زیادہ ہوں گے اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں آپ کی گفتگو کو اور معنوں میں نہ لے جائیں اور پھر ہر بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ اُڑانے والا اس کو اُڑاتا نہ پھرے۔ آپ اس وقت وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ تک ٹھہر جائیں کہ مدینہ جو کہ دار ہجرت اور سنت فَيَحْفَظُوا مَقَالَتَكَ وَيُنَزِّلُوهَا عَلَى نبوی کا مقام ہے، وہاں نہ پہنچ جائیں۔ وہاں آپ وَجْهِهَا فَقَالَ وَاللَّهِ لَأَقُومَنَّ بِهِ فِي أَوَّلِ رسول اللہ صلی علم کے صحابہ مہاجرین اور انصار کے مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ساتھ الگ تھلگ ہوں گے وہ آپ کی بات کو محفوظ ا رَعَاعَ النَّاسِ - أَي غَوْغَانَهُمْ وَسُقاطهم وأخلاطهم - النهاية في غريب الحديث، رعع )