صحیح بخاری (جلد شانز دھم) — Page 615
صحيح البخاری جلد ۱۶ ۶۱۵ ۹۶ - كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة بَاب ١٦ مَا ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَصَّ عَلَى اتِّفَاقِ أَهْلِ الْعِلْمِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل علم کے اتفاق کا جو ذکر فرمایا اور اس کے متعلق ترغیب دی وَمَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْحَرَمَانِ مَكَّةُ اور جس بات پر دونوں حرم مکہ اور مدینہ (کے وَالْمَدِينَةُ وَمَا كَانَ بِهِمَا مِنْ مَّشَاهِدِ اہل علم نے اجماع کیا ہے اور ان دونوں میں جو النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مہاجرین اور انصار کے وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَمُصَلَّى النَّبِيِّ متبرک مقامات ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمِنْبَرِ وَالْقَبْرِ نماز گاہ اور منبر اور آپ کی قبر۔۷۳۲۲: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنِي :۷۳۲۲ اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ مالک نے مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُجھے بتایا۔انہوں نے محمد بن منکدر سے، محمد نے جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ السَّلَمِي أَنَّ أَعْرَابِيًّا حضرت جابر بن عبد اللہ سلمی سے روایت کی کہ ایک بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بدوی نے رسول اللہ صلی علیم کی اسلام پر ( قائم رہنے عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعَكَ کی بیعت کی۔اس بدوی کو مدینہ میں (ہی) بخار بِالْمَدِينَةِ فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ہو گیا تو وہ بدوی رسول اللہ صلی الیکم کے پاس آیا اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میری بیعت فتح کر دیں، أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى رَسُولُ اللهِ رسول اللہ لی ایم نے انکار کیا۔پھر وہ آپ کے پاس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ آیا اور کہنے لگا: میری بیعت فسخ کر دیں، آپ نے أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي انکار کیا۔پھر وہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری بَيْعَتِي فَأَبَى فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ بيعت فسخ کر دیں، آپ نے انکار کیا۔اس پر وہ بدوی رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا نکل کر چل دیا تو رسول اللہ لی ایم نے فرمایا: مدینہ الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَتَهَا وَيَنْصَعُ تو ایک بھٹی کی طرح ہے۔اپنی میل کو نکال باہر پھینکتا ہے اور اس کی پاکیزہ چیز خالص ہو جاتی ہے۔طيبها۔أطرافه: ۱۸۸۳، ۷۲۰۹، ۷۲۱۱، ۷۲۱۶- :۷۳۲۳: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ :۷۳۲۳ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ